فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) معمار ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو”اے آر آئی”کے زیر اہتمام گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کالج میں ایک آگاہی سیمینار بعنوان” پاکستان سے سگریٹ نوشی کا خاتمہ ممکن ہے”جس میںجاوید اقبال وائس پرنسپل،فاروق ایوب چیئر مین معمار ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن،دلدار انجم گل، یوسف عدنان،عظیم انجم،میڈیم ارم چوہدری،شکور نور گل، شفیق مسیح ودیگرخطاب کررہے ہیں فاروق ایوب چیئرمین معمار ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے کہا کہ سگریٹ نوشی اب بھی تمباکو کے استعمال کی سب سے بڑی شکل ہے۔ اندازا 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد تمباکونوشوں میں سے 1 کروڑ 70 لاکھ سگریٹ نوش ہیں۔پاکستان نے 2005 میں عالمی ادارہ صحت کے تحت تمباکونوشی کے خاتمے کے طریقہ کار کی توثیق کی جسے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کہتے ہیں۔جاوید اقبال وائس پرنسپل،فاروق ایوب نے کہا کہ پاکستان میں تقریبا 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد مختلف شکلوں میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں ترک تمباکو نوشی کی موثر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث سگریٹ نوش اپنے طور پر اس عادت کو چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔یوسف عدنان،عظیم انجم،میڈیم ارم چوہدری،شکور نور گل نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 3 فیصد سے بھی کم سگریٹ نوش اپنی اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔جاوید اقبال وائس پرنسپل،فاروق ایوب نے کہا کہ اگر ترک تمباکونوشی کی سہولیات کو بنیادی انسانی حق تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان تمباکو نوشی کے مکمل خاتمے کی جانب پہلا قدم اٹھا سکتا ہے۔بالغ سگریٹ نوش جو بارہا کوششوں کے باوجود بھی اپنی اس عادت کو ترک کرنے میں ناکام ہیں، انہیں مدد کی ضرورت ہے۔دلدار انجم گل،یوسف عدنان نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو ضلعی، تحصیل، اور یونین کونسل کی سطح پر بالغ سگریٹ نوشوں تک پہنچنا چاہیے، خصوصی طور پر ان تک جو کئی بار کوشش کرنے کے باوجود اپنی اس عادت کو چھوڑنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمباکونوشی ترک کرنے کے فوائد فوری اور دیرپا ہوتے ہیں۔جس دن کوئی تمباکونوش سگریٹ نوشی ترک کرتا ہے، جسم اسی دن زہریلے مادوں کو خارج کرنا شروع کر دیتا ہے




