پانی کی قلت سے زرعی پیداوار غذائی تحفظ متاثر ہوسکتے ہیں

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) ماہرین نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں غذائی استحکام اور زرعی پیداوار کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہے جس سے نمٹنے کے لیے مربوط تحقیق، پانی کے مؤثر استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار بعنوان ”موسمیاتی تبدیلی کے پانی، خوراک اور ماحولیاتی نظام پر اثرات، خطرات کے پھیلاؤ اور مشترکہ موافقت کی حکمتِ عملی” کا انعقاد شعبہ آبپاشی و نکاسی آب، فیکلٹی آف زرعی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت کیا گیا۔ ڈین کلیہ زرعی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر انجم منیر نے ماحولیاتی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے پائیدار اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی اور ماحول دوست ذرائع کو فروغ دینا ہو گا۔ پروفیسر ڈاکٹر ظفر عدیل نے پانی کے انتظام، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔ جرمنی کی مارٹن لوتھر یونیورسٹی ہالے وٹن برگ کے ڈاکٹر محمد عثمان نے خبردار کیا کہ پانی کی قلت، بارشوں کے غیر متوقع انداز اور ماحولیاتی تنزلی سے زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عدنان شاہد نے کہا کہ سائنسی تحقیق کو عملی حل میں تبدیل کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بین الاقوامی تعلیمی تعاون اور علم کے تبادلے میں وسعت لانا ہوں گی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد زمان نے کاربن کے اخراج میں کمی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے صاف توانائی، ماحول دوست ذرائع آمدورفت اور پائیدار ترقی میں سرمایہ کاری کو ناگزیر قرار دیا۔ مارگلہ گرین ڈویژن کے لیفٹیننٹ کرنل (ر) غضنفر رضا نے کہا کہ درآمدی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے اور قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی مہارت، تکنیکی تربیت اور ملکی سطح پر انجینئرنگ کے حل کو فروغ دینا چاہیے۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے پروفیسر یان جون شین نے بدلتے ہوئے موسمی حالات میں زرعی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے سائنسی جدت، پانی کے مؤثر استعمال اور پائیدار آبپاشی کے طریقوں کو اپنانے کی اہمیت اجاگر کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں