اسلام آباد (بیورو چیف)پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژیڈونگ نے کہا ہے کہ چین نے عوام کو مرکزِ نگاہ بنا کر غربت کے خاتمے میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے جس کی بنیاد کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کا عوام کی خدمت اور مشترکہ خوشحالی کا فلسفہ ہے،چین اپنی ترقی اور غربت کے خاتمے کے کامیاب تجربات پاکستان کے ساتھ بانٹنے کو اولین ترجیح دیتا ہے تاکہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی کے مشترکہ اہداف حاصل کر سکیں۔جمعہ کو پاکستان میں منعقدہ 2026 چین۔جنوبی ایشیا ممالک غربت میں کمی اور ترقیاتی تعاون فورم سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے غربت کے خاتمے کے لیے ہدفی معاونت کی حکمت عملی اپنائی جس کے تحت انتہائی غربت سے متاثرہ علاقوں اور طبقات کی ضروریات کے مطابق مخصوص اقدامات کیے گئے۔نہوںنے کہاکہ صدر شی جن پنگ نے خود غربت سے متاثرہ علاقوں کے دورے کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس مسئلے کے حل کو قومی ترجیح بنایا۔انہوں نے کہا کہ چین نے غربت کے خاتمے کے بعد بھی متاثرہ طبقات کی مسلسل اور منظم معاونت کا سلسلہ جاری رکھا ہے تاکہ کوئی بھی خاندان دوبارہ غربت کی لکیر سے نیچے نہ چلا جائے۔انہوںنے کہاکہ چینی جدیدیت کا بنیادی مقصد ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچانا اور عوام کو بہتر، خوشحال اور باوقار زندگی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔جیانگ ژیڈونگ نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چین نے غربت میں کمی اور ترقیاتی تعاون کے لیے متعدد ٹھوس اقدامات کیے، جن میں تقریبا دو ہزار تعاون کے منصوبے اور جنوب جنوب تعاون کے تحت مختلف ترقیاتی سرگرمیاں شامل ہیں۔انہوںنے کہاکہ چین کی معاشی ترقی نہ صرف ملکی خوشحالی کا ذریعہ ہے بلکہ عالمی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے،ابھرتی ہوئی صنعتیں، جدید کاروباری ماڈلز اور نئی معاشی سرگرمیاں چین کی اقتصادی ترقی کے اہم محرک بن چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین عالمی تجارت میں اشیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور درآمد کنندہ ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی درآمدی طلب عالمی منڈیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ چین عالمی معیشت میں ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس کی ترقی کا وژن صرف اپنی خوشحالی تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ترقی اور فلاح سے وابستہ ہے۔پاکستان اور چین کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے غیر متزلزل عزم پر مبنی ہے،صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے ساتھ دوستی اور تعاون کو چین کی خارجہ پالیسی میں خصوصی اہمیت دی ہے جبکہ دونوں ممالک کی قیادت کی رہنمائی میں سی پیک اس دیرینہ شراکت داری کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت 25.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبے مکمل کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں پاکستان میں روزگار کے تقریبا ًدو لاکھ 60 ہزار مواقع پیدا ہوئے،اس منصوبے نے پاکستان میں خواتین کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے، جن میں ملک کی پہلی خاتون ٹرین ڈرائیور کی مثال قابلِ ذکر ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ اب دونوں ممالک سی پیک 2.0 کے تحت تعاون کو نئے مرحلے میں داخل کر رہے ہیں، جس میں زراعت، کان کنی، معدنی وسائل، صنعت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی،پاکستان کی چین کو زرعی برآمدات میں اضافہ بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کے مثبت امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے پانچویں پلینری اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے اہم خطاب اور مرکزی کمیٹی کی منظور کردہ قرارداد میں چینی جدیدیت، قومی ترقی اور چینی قوم کی عظیم نشا ثانیہ کے اہداف کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔جیانگ ژیڈونگ نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں انسانیت ایک اہم تاریخی موڑ پر کھڑی ہے اور پاکستان و چین آہنی بھائیوں کی حیثیت سے مشترکہ ترقی، باہمی اعتماد اور تعاون کے سفر کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ چین اپنے غربت کے خاتمے کے تجربات، ترقیاتی ماڈلز اور کامیاب پالیسیوں سے پاکستان کو مستفید کرنے کے لیے تیار ہے اور پاکستان کے ساتھ ترقیاتی تعاون کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے گا




