سرگودھا(بیورو رپورٹ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت سرگودھا میں گندم کی کاشت کے فروغ اور مقررہ اہداف کے حصول کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی سلطان علی رانجھا اور میاں اکرام الحق، سابق رکن قومی اسمبلی محسن شاہ نواز رانجھا، سیکرٹری زراعت پنجاب شکیل احمد میاں اور کمشنر سرگودھا حافظ شوکت علی سمیت سرگودھا ڈویژن کے ڈپٹی کمشنرز، محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرلز نوید عصمت کاہلوں، شہباز اختر اور ڈاکٹر عامر رسول سمیت دیگر متعلقہ افسران، کاشتکاروں اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اتفاقِ رائے سے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرگودھا ڈویژن میں گندم کی کاشت کا ہدف 17 لاکھ 25 ہزار ایکڑ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مقررہ ہدف سے زائد رقبے پر گندم کی کاشت یقینی بنانے کے لیے محکمہ زراعت کی فیلڈ فارمیشنز کو خصوصی ٹاسک سونپ دیے گئے ہیں۔ کاشت سے لے کر برداشت تک کاشتکاروں کو مرحلہ وار اور باقاعدگی سے زرعی مشاورتی خدمات فراہم کی جائیں گی تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب نے ہدایت کی کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے تصدیق شدہ گندم کے بیج کی فروخت صرف اپنے سیل پوائنٹس کے ذریعے براہِ راست کاشتکاروں کو یقینی بنائے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کے تصدیق شدہ بیج پر کاشتکاروں کو 32 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت 800 روپے فی بیگ رعایت کے بعد بیج کا تھیلا 7 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کسان کارڈ کے ذریعے ربیع سیزن کے لیے کاشتکاروں کو 150 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، ڈی اے پی کھاد کی خریداری کے لیے 17 ارب روپے کی اضافی بلا سود مالی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت کاشتکاروں کو 3500 روپے فی ایکڑ کے حساب سے رقم دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق نہری پانی کی چوری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں، جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن سے کرشنگ سیزن جلد شروع کرنے کے حوالے سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب شکیل احمد میاں نے کہا کہ صوبے بھر میں گندم کے تصدیق شدہ بیج اور کھادوں کی مارکیٹوں میں وافر مقدار میں دستیابی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ پیسٹی سائیڈز اور کھادوں میں ملاوٹ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔اس موقع پر کمشنر سرگودھا ڈویژن حافظ شوکت علی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام اپنا کھیت اپنا روزگار پروگرام، گھوڑی پال پروگرام اور نمبردار گرانٹ کے تحت مختص رقبوں پر گندم کی کاشت یقینی بنائی جائے گی تاکہ صوبائی حکومت کے مقرر کردہ اہداف کے حصول میں بھرپور کردار ادا کیا جا سکے۔




