پاکستان میں 40فیصد بچے اور خواتین غذائی قلت کا شکار

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد بچے اور خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں، جس پر قابو پانے کے لیے جامعات، تحقیقی اداروں اور عالمی ترقیاتی شراکت داروں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ غربت کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔وہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر کے زیر اہتمام ”شراکت داری اور پالیسی کے ذریعے غذائیت کا فروغ” کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر کی ترقی کا سفر اہم کامیابیوں سے عبارت ہے۔ پاک کوریا نیوٹریشن مرکز کے ارتقائی مراحل بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ا بتدا میں توجہ زرعی پیداوار، غذائی فراہمی اور ون ہیلتھ کے تصور پر مرکوز تھی، تاہم یہ حقیقت سامنے آئی کہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ غذائیت میں قلت جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل نہیں۔ ملک میں غذائیت کی تشویشناک صورتحال نے مرکز کو غذائیت کیلئے مختص کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے تحقیق کو عوامی ضروریات سے جوڑنے اور غذائی مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کی نئی راہیں کھلی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر نے انسانی وسائل کی استعداد کار بڑھانے، خوراک کے ضیاع کو کم کرنے اور غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کامیابیوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے تحقیق کے نتائج کو پالیسی سازی اور عوامی سطح پر عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں