مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے امریکہ ایران کشیدگی ختم کروائی جائے (اداریہ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن آئندہ2ہفتوں میں یہ فیصلہ کرے گا کہ ایران کے حوالے سے مزید اقدامات کئے جائیں یا کسی ممکنہ معاہدے کی توثیق کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران جن تجاویز پر غور کر رہا ہے ان تفصیلات سے قطع نظر ایک بات واضح ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، دو سر ی جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے نائب سربراہ علی باقری کنی نے کہا ہے کہ تہران محض کاغذی وعدوں سے مطمئن نہیں ہو گا اور کسی بھی سفارتی پیشرفت سے قبل امریکہ سے عملی اقدامات کا خواہاں ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطرکے امیر شیخ تمیم بن احمد آل ثانی سے ٹیلی فونک بات کی ہے ، اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا، قطری حکام کا کہنا ہے کہ امیر قطر نے تنازعہ کے حل کیلئے مکالمے کے تسلسل اور سفارتکاری کو موثر ذریعہ بنانے پر زور دیا، امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سات ماہ کے دوران امریکہ نے ایران سے متعلق تمام اہداف حاصل کر لئے ہیں، جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ ہم ایران کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ایران کو تباہ ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا، لیکن اگر ضرورت پڑی تو ایسا کرنا پڑ سکتا ہے، دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے خبر دار کیا ہے کہ خطے میں کسی بھی جارحیت یا فوجی کارروائی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز خود بخود نہیں کھلے گی، ان کے مطابق اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا ایران کی جانب سے طے کی گئی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے، ادھر عراق نے واضح کیا ہے کہ اس کی سرزمین کو کسی پڑوس ملک پر حملوں کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں ملکی خود مختاری کے احترام اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارت کاری اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے ، اس صورتحال پر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین ایک بار پھر جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ جنگ کا کہنا ہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ کو کروڑوں ڈالر مالیت کا نیا جدید سسٹم فراہم کر دیا گیا ہے، اس حوالے سے ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لمبی تقریریں کرنے کی بجائے اپنے لیڈر کو سمجھاتے کیوں نہیں، یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کی روشنی میں امریکی ڈیمو کریٹس نے صدر ٹرمپ پر یہ دبائو بڑھانا شروع کر دیا ہے کہ وہ ایران سے جنگ بند کریں،یہ امر واقع ہے کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں اور ان کے طرز حکمرانی کیخلاف عوام کے بڑھتے ہوئے رد عمل کو واضح کر دیا ہے مگر لگتا ہے کہ انتخابی نتائج سے ملنے والے اس واضح پیغام کے باوجود صدر ٹرمپ اپنی جنگی سوچ اور ایران کیخلاف جارحانہ عزائم سے دستبردار ہوتے دیکھائی نہیں دے رہے،یہ حقیقت واضح ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کسی ایک خطے یا دو ممالک کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں، آبنائے ہرمز میںکشیدگی سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجہ میں ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر مزید دبائو بڑھ سکتا ہے، پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کیلئے اپنا موثر کردار ادا کیا ہے اور اس سلسلے میں کوششیں اب بھی جاری ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اور مسلم دنیا امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ یقینی بنانے کیلئے پہلے سے بھی زیادہ متحرک ہوں اور تمام مسائل کو سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں