مکہ معاہدے سے وابستہ امیدو ں کو عملی تعاون میں تبدیل کیا جائے (اداریہ)

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون خطے میں امن ، استحکام اور مشترکہ سلامتی کیلئے ایک اہم پیشرفت ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کو ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارتی اور اسرائیلی پروپیگنڈہ اس معاہدے کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتا۔اس پیشرفت سے تینوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور مشترکہ مفادات کے تحفط کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے یہ تعاون اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں ممالک کیلئے باہمی مشاورت، موثر سفارتکاری اور مشترکہ حکمت عملی کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ عرب اپنے اپنے تاریخی جغرافیائی اور معاشی پس منظر کے باوجود کئی مشترکہ مفادات رکھتے ہیں، پاکستان جنوبی ایشیاء کے درمیان ایک نمایاں جغرافیائی و تزویراتی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب اسلامی دنیا میں خصوصی مقام اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اہم کردار کا حامل ہے۔ ان تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون خطے میں سلامتی کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے اور خطے کی صورتحال پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ ایک خصوصی اہمیت کا حامل ہو گا ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں ، تینوں ممالک کے درمیان تعاون خطے میں سلامتی اور دفاعی شراکت داری کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ترک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک تعاون کے بڑھتے ہوئے امکانات کیلئے بھارت کو بے چین کر دیا ہے ، بھارت مکہ دفاعی اتحاد کو تنقید اور غلط معلومات کے ذریعے کمزورنہیں کر سکتا۔پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان تعاون ایک اہم سٹریٹجک پیشرفت ہے جس کے اثرات وقت کے ساتھ تو سامنے آئیں گے۔ بھارت اس اتحاد پر تنقید تو کر سکتا ہے۔ لیکن اس اسٹریٹجک اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔تینوں اسلامی ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے سے غیر مسلم قوتوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں اور انہوں نے جان لیا ہے کہ امت مسلمہ اپنے دفاع کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر ہے کہ مکہ معاہدے سے وابستہ امیدوں کو عملی تعاون میں تبدیل کیا جائے اور اس کے مثبت مقاصد کو آگے بڑھانے کیلئے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں۔ ترک وزیر خارجہ کا موقف اسی اعتماد کی ترجمانی بھی کرتا ہے کہ تعمیری اقدامات اور مضبوط باہمی روابط کو محض منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم ممالک اگر اتحاد، دانش مندی اور عملی تعاون کی راہ اختیار کریں تو نہ صرف اپنے مشترکہ مفادات کا بہتر تحفظ کر سکتے ہیں بلکہ عالمی امن اور استحکام میںبھی نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مکہ معاہدے کی اصل کامیابی بھی اسی میں ہے کہ وہ اختلافات کم کرنے، تعاون بڑھانے اور امت مسلمہ کے روشن مستقبل کیلئے ایک موثر ذریعہ ثابت ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں