پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات صدیوں پر محیط ہیں، دونوں مسلم ممالک کے درمیان اسلامی اخوت کا رشتہ ازل سے قائم ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اسلامی اخوت، تاریخی وابستگی ، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستی محض سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں عوامی، مذہبی، ثقافتی اور معاشرتی سطح تک پھیلی ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ دونوں برادر ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نے دفاع، معیشت، سرمایہ کاری، تجارت اور علاقائی امن کے حوالے سے ایک نئی جہت اختیار کی ہے، جو مستقبل میں مزید مضبوط تعاون کے امکانات روشن کررہی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ سے پاکستان میں تعینات سعودی سفیر راجع بن طامی البقمی نے ملاقات کی ہے جس کے دوران دونو ں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان و سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ دفاعی تعاون کے حوالے سے مضبوط شراکت داری کا عکاس ہے اس ملاقات سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ تینوں برادر اسلامی ممالک اپنے دیرینہ تعلقات کو نئے شعبوں تک وسعت دینے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں،ملاقات میں عطاء اللہ تارڑ نے سعودی سفیر کو پاکستان میں تعیناتی پر مبارکباد دی اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان میڈیا، ثقافت اور عوامی رابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا، یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں،سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک قیادت میں سعودی عرب نے معاشی اور ثقافتی میدان میں نمایاں تبدیلی کی ہے، سعودی شہر العلا میں سیاست کے فروغ اور الدرعیہ کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو جدید انداز میں اجاگر کرنا سعودی قیادت کے وژن کی نمایاں مثال ہے، عطاء اللہ تارڑ کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان خاندانی اقدار، مشرقی روایات اور اسلامی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ادیبوں ، شاعروں ، میڈیا نمائندگان اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کے وفود کے تبادلوں کی تجویز بھی دی، پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کو چاہیے کہ اس مضبوط برادرانہ تعلق کو عملی اقتصادی ، تعلیمی، دفاعی اور ثقافتی منصوبوں میں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں، باقاعدہ مشاورت، مشترکہ منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی راوبط کے ذریعے تعاون کے ثمرات عوام تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ بلا شبہ سعودی سفیر کی وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ سے ملاقات اور مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والا موقف پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط تعلقات کی ایک اہم عکاسی ہے۔ دفاعی تعاون کے ساتھ میڈیا، ثقافت ، تعلیم ، سیاحت اور اقتصادی شعبوں میں اشتراک دونوں ممالک کی تاریخی دوستی کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس برادرانہ شراکت داری کو مشترکہ کوششوں ، موثر حکمت عملی اور عملی اقدامات کے ذریعے نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے تاکہ پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ خطے میں امن ،ترقی ، استحکام اورخوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول میں اپنامثبت کردارادا کرتے رہیں۔




