سر سنگیت کی جڑیں روح کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، کیونکہ روح ہجر اور فراق کے درد کو محسوس کرتی ہے۔ شاید اسی لیے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ روح باقاعدہ ٹھنڈی آہیں بھرتی ہے، روتی ہے، کرلاتی ہے، کلبلاتی ہے اور کوکیں مارتی ہے۔ اس کیفیت کو جب صوفیائے کرام نے بیان کیا تو صوفیانہ شاعری تخلیق ہوئی۔ اس ساری کیفیت کو پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے کچھ یوں بیان کیا ہے:وچھوڑا ناں کسے دے پیش آویکسے دا یار ناں پردیس جاوے برصغیر پاک و ہند میں صوفیانہ شاعری کا آغاز بابا فرید الدین مسعود گنج شکر سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد بے شمار بزرگانِ دین نے اس شاعری کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ ان میں شرف الدین بو علی قلندر، امیر خسرو، بابا بلھے شاہ، پیر وارث شاہ، سلطان باہو، مولوی غلام رسول، میاں محمد بخش، میاں علی حیدر ملتانی، پیر مہر علی شاہ اور خواجہ غلام فرید قابلِ ذکر ہیں پروفیسر غلام حسین ساجد نے اپنے ایک مقالے قطب علی شاہ دی لڑی دے شاعر میں کچھ اور صوفی شعرا کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ویسے بھی یہ ایک اہم اور تحقیق طلب موضوع ہے۔ غالب امکان ہے کہ بے شمار مزید ایسے شعرائے کرام ہوں گے جن کی شاعری وقت کے ساتھ منظرِ عام پر نہیں آ سکی ہوگی، کیونکہ بقول کسی صوفی شاعر:ہک ناں نوں رنگ چڑھ گیا، ہک راہے گئے امن امانخیر، مذکورہ شاعری کی خوبصورتی اس کے سوز و گداز ہی کی وجہ سے ہے۔ انسان روح اور بت کا مرکب ہے۔ روح لطافت ہے اور بدن، جسے بت سے تعبیر کیا جاتا ہے، کثافت کا مظہر ہے۔ یوں دو متضاد صفات کی حامل چیزیں ایک ہی وجود میں جمع ہیں۔ ایسا نہیں کہ صوفیا نے روح اور بت کے درمیان کسی جھگڑے کی بات کی ہو۔ راقم الحروف نے بھی اس خیال کو ایک نئے انداز سے آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے:روح تے میرا جھگڑا اپنابت وچ ایویں شور مچاندااللہ تعالی نے انسان کو سر تا پا ان گنت اعضا سے نوازا ہے اور اس ساری کہانی میں بہت کچھ ہے، بلکہ بہت ہی کچھ ہے۔ سوچ بچار، مراقبے اور اپنے من میں ڈوبنے کی اشد ضرورت ہے۔ تب جا کر کہانی کا کچھ حصہ آپ پر عیاں ہوگا۔ اور سب کچھ جاننے کے لیے تو خیر شدید محنت اور ریاضت درکار ہے۔ اس ریاضت کے تسلسل کے حوالے سے بقول بلھے شاہ:پی شراب تے کھا کباب، ہیٹھ بال ہڈاں دی اگان بزرگانِ دین کے بقول، کہانی صرف ایک ہی کی ہے اور دوسرے کے وجود کی نفی اس شاعری کا اصل پیغام ہے۔ اس ساری بات میں روح کی جو تعریف قرآن مجید میں کی گئی ہے، اس کے مصداق روح کے ہاں درد موجود ہے۔ اس درد کی کسک ویسے تو ہر انسان محسوس کرتا ہے، لیکن کچھ لوگ اس کیفیت میں مست الست اور بے خود ہو جاتے ہیں۔ دیگ کا ذائقہ چکھنے کے لیے چند چاول ہی کافی ہوتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں۔سلطان باہو فرماتے ہیں:عشق چلایا طرف آسمانوں، فرشتوں عرش وکھایا ہواوہ دنیا ناں ٹھگ سانوں، ساڈا اگے جی گھبرایا ہواسیں پردیسی، ساڈا وطن دوریڈا، ایویں کوڑا لالچ لایا ہومرن تھیں پہلے جو مرگئے باہو، رب انہاں ای پایا ہواور شاہ حسین کچھ یوں بیان کرتے ہیں:سجن دے ہتھ باہاں ساڈی، کیکر آکھاں چھڈ وے اڑیارات ہنیری، بدل کنیاں، باہجھ وکیلاں مشکل بنیاںڈاہڈے کیتا، چھڈ وے اڑیاکیکر آکھاں چھڈ وے اڑیاعشق محبت سوئیو جانن پئی جنہاندے ہڈ وے اڑیابقول پیر مہر علی شاہ:کن فیکون تے کل دی گل اے، اساں اگے پریت لگائیتوں میں حرف نشان ناں ہا، جد دتی میم گواہیاج وی اوہ پئے دسدے سانوں بیلے بوٹے کاہی مہر علی رل دونوں بیٹھے، جد سک دوہاں نوں آئی آج کے دور میں صوفیا کی شاعری کو بڑی پذیرائی حاصل ہے اور ان صوفی شعرا کی کمی بھی محسوس کی جاتی ہے۔ عصرِ حاضر کے شعرائے کرام نے بھی اسی شاعری کا سہارا لے کر ایک خاص رنگ پیدا کیا ہے۔ بابا ندیم جب کہتے ہیں:اٹھ شاہ حسینا، ویکھ اسیں بدلی بیٹھے ویسساڈی جند نمانی کوکدی، اسیں رل گئے وچ پردیس متذکرہ بالا سطور میں سر سنگیت کی بات کی گئی ہے۔ سر بنیادی طور پر سنگیت کی اکائی ہے اور محققین نے چھوٹی بڑی ملا کر کل بارہ سر بیان کیے ہیں۔ انہی سروں سے سنگیت کی دنیا آباد ہوتی ہے۔ پھر جب شاعری، سر اور راگ یکجا ہوتے ہیں تو موسیقی تخلیق ہوتی ہے۔ موسیقی کو روح کی غذا بھی کہا جاتا ہے۔پنجاب کی دھرتی، ماں بولی اور ماں بولی کی ترویج و ترقی کے لیے کام کرنے والا ادارہ پلاک (پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر)بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ کسی بھی ادارے کی کارکردگی کا اندازہ اس کے افراد کی کارکردگی سے لگایا جاتا ہے۔ محترم اسلم شاہد صوبائی سروس کے ایک متحرک افسر ہیں۔ وہ شاعر، ادیب اور متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ جب سے وہ پلاک میں ڈائریکٹر جنرل تعینات ہوئے ہیں، ادارے کی کارکردگی اور ورکنگ میں نکھار پیدا ہوا ہے۔گزشتہ دنوں راقم الحروف کو بھی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ کہانی، سفر اور سر کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام میں نوجوان گلوکار رمضان جانی کی ویب سائٹ کا افتتاح کیا گیا تھا۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف کالم نگار اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ تھے، جبکہ مہمانِ اعزاز اطہر اسماعیل، ریجنل پولیس آفیسر شیخوپورہ، تھے۔شاعری اور موسیقی پر گفتگو کا ملکہ رکھنے والے کئی دانشور اس تقریب میں موجود تھے اور سب نے اپنے اپنے انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ اطہر اسماعیل کے وسیع مطالعے کا احساس ہوا اور ان کے ذوق و شوق کا بھی اندازہ ہوا۔ ان کے اندر کا فنکار شاید پولیس کی وردی کے رعب کی وجہ سے کھل کر سامنے نہیں آ سکا، تاہم ان کے اندر کا فنکار حسبِ ضرورت اپنا آپ دکھاتا رہتا ہے۔سہیل وڑائچ کے ہاں ایک خاص صحافتی اور تجزیاتی رنگ ہے اور یہ رنگ اس روز بھی سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ انہوں نے وارث شاہ کی شاعری پر بات کرتے ہوئے تحقیق کے تسلسل کو آگے بڑھایا۔ ان کا خیال تھا کہ وارث شاہ نے ہیر کی کہانی بیان کرکے خواتین کو بااختیار بنانے کے تصور کی بھرپور وکالت کی ہے اور پنجاب کا لفظ پہلی دفعہ وارث شاہ نے استعمال کیا تھا۔مجموعی طور پر تمام مقررین نے صوفیائے کرام کے افکار و خیالات، سر سنگیت اور رمضان جانی کی کہانی، سفر اور سر کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔رمضان جانی کا تعلق ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں سے ہے۔ وہ ایک سیلف میڈ نوجوان ہیں جنہیں اللہ تعالی نے خوبصورت آواز عطا فرمائی ہے۔ جب انہوں نے صوفیائے کرام کا کلام گایا تو پھر یوں محسوس ہوا کہ شاید اللہ تعالی نے انہیں صوفی شعرا کے کلام کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کی موجودہ اٹھان بتاتی ہے کہ انہیں ابھی بہت آگے جانا ہے، کیونکہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ان کا سفر ابھی جاری ہے۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی کرنوں کی تمازت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نصف النہار پر اس کی کیفیت کیا ہوگی۔ رمضان جانی! آپ کی کہانی ابھی شروع ہوئی ہے اور آپ کا کل بڑا ہی تابناک دکھائی دیتا ہے۔ بس آپ کو سر سنگیت میں مسلسل ریاضت کی ضرورت ہے۔ پھر آپ کی آواز کے ساتھ پوری کائنات میں سبحان اللہ، سبحان اللہ کی صدائیں گونجیں گی۔ ان شا اللہ!




