FWMCدو سال میں1ارب کی کرپشن،متعدد افسران گرفتار ‘تحقیقات کا دائرہ وسیع

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) اینٹی کرپشن حکام نے 2 سال کے دوران ایک ارب سے زائد کی کرپشن کرنے کے الزام میں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سابق ایم ڈی رئوف احمد’ اعلیٰ افسران اور کیئر سروسز کنسورشیم کے سی ای او، ٹھیکیدار سمیت دیگر کیخلاف مقدمہ درج کر لیا’ متعدد افسران کو گرفتار کر کے بازپرس کا دائرہ وسیع کر دیا گیا’ ایک ارب سے زائد میگا کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کی نگرانی ڈائریکٹر جنرل پنجاب اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ خود کر رہے ہیں۔ تفصیل کے مطابق فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سے تحصیل سٹی اور تحصیل صدر میں سالڈویسٹ مینجمنٹ سروسز کا ٹھیکہ کیئر سروسز کنسورشیم کو 2024ء میں دیا گیا اور کمپنی نے نومبر 2024ء سے کام کا آغاز کیا، مذکورہ کمپنی کے افسران’ ایف ڈبلیو ایم سی کے افسران سے ملی بھگت کر کے نومبر 2024ء تا اپریل 2026ء تک مالی بے ضابطگیاں کرتے رہے اور سرکاری خزانہ سے خطیر رقم نکال کر خردبرد کر لی۔ ایف ڈبلیو ایم سی کے سابق ایم ڈی رئوف احمد’ منیجر آپریشن عبداﷲ نذیر باجوہ’ منیجر آئی ٹی اسد الٰہی’ منیجر فنانس احسن ندیم’ ٹرانسپورٹ آفیسر ارشد سلیم انصاری’ سینٹری انسپکٹر عابد’ منیجر پروکیورمنٹ وقاص اصغر’ ڈسٹرکٹ منیجر آپریشنز حافظ طیب’ کیئر کنسورشیم کمپنی کے سی ای او ڈاکٹر رائے قمر’ محمد شفیق’ قیصر خان’ ٹھیکیدار محمد فاروق خان ودیگر نے ملی بھگت سے 2317 کنٹینرز ظاہر کئے لیکن موقع پر 1717 کنٹینرز پائے گئے اور کوڑا اٹھانے کیلئے مطلوبہ ڈمپر کی بجائے 48 لوڈر رکشہ کو بطور ڈمپر ظاہر کیا اور قومی خزانے سے منی ڈمپرز ظاہر کر کے بھاری رقوم نکلوا کر ہڑپ کر لی۔ کیونکہ منی ڈمپرز کی یومیہ لاگت اور رینٹ زیادہ تھی، کمپنی نے 633 گھوسٹ سینٹری ورکرز کی محض ورکشاپ پر حاضریاں لگا کر ڈیش بورڈ میں ان کی نوعیت ڈور ٹو ڈور ظاہر کر کے تنخواہوں کی مد میں کروڑوں نکلوائے اور 188 ویسٹ انکلوژر قائم کئے اور اضافی 85 ویسٹ انکلوژر کا بل تیار کر کے ہر ماہ قومی خزانہ سے رقم نکلواتے رہے اور تین عارضی کولیکشن پوائنٹ جو کہ موقع پر موجود نہ تھے ان کے بل بنا کر قومی خزانہ سے رقوم حاصل کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ویسٹ فلیٹ جس میں ٹریکٹر’ لوڈرز’ ڈمپرز’ فرنٹ اینڈ لوڈرز’ ٹریکٹر ٹرالی شامل ہیں اسکی بیس ویلیو جعل سازی سے کم ظاہر کر کے اضافی سکور حاصل کئے گئے جس سے بھی قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا گیا، دو عدد ڈمپنگ سائٹ ہر گلی (Sucker) گاڑی’ ڈی سلٹنگ میں ڈرین کلینرز ظاہر کئے جبکہ موقع پر سادہ ٹریکٹر’ واٹر بائوزرز استعمال کر کے اضافی سکور حاصل کئے گئے کیونکہ کنٹریکٹر کو ادائیگیاں ایف ڈبلیو ایم سی کی جانب سے وضع کردہ طریقہ کار سے ہوئی تھیں، جس میں فی سکور کے عوض ایک مخصوص یومیہ رقم ایف ڈبلیو ایم سی کنٹریکٹر کو ادا کرنی تھی۔ مزید یہ کہ کوڑا کرکٹ کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں پر لگائے گئے ٹریکرز کے ڈیٹا میں بھی ہیرا پھیری (Manipulate) کیا گیا اور ڈیٹا کو غلط ظاہر کر کے اضافی سکور حاصل کر کے قومی خزانہ کو ایک ارب کا نقصان پہنچایا جس پر اینٹی کرپشن لاہور نے ایف ڈبلیو ایم سی کے سابق ایم ڈی رئوف احمد سمیت 7 اعلیٰ افسران اور کیئر کمپنی کے سی ای او رائے قمر’ ٹھیکیدار فاروق سمیت 12افراد کیخلاف مقدمہ درج کر کے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر افسران وعملہ کے کردار کا تعین دوران تفتیش کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں