منڈی صادق گنج(نامہ نگار)آئس کے نشے کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے آئس کا نشہ کرنے کے بعد مسلسل جاگتے رہنے کی وجہ سے آئس کا نشہ جاگو کے منفرد نک نیم سے مشہور ہے آئس المعروف جاگو کی فروخت کا مکروہ دھندہ کھلے عام جاری ہے آئس کے اس طرح کھلے عام دستیاب ہونے کے باعث نوجوان تیزی سے اس کا شکار ہو رہے ہیں آئس کے نشے سے متاثرہ نوجوان بہت جلد جان کی بازی ہار جاتے ہیں آئس کے نشے کی لت کا شکار نوجوان چوری اور دیگر جرائم کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب آئس کی فروخت کرنے والے کو پکڑنا اور مقدمہ درج کر کے چالان کرنا پولیس کے کئے انتہائی مشکل عمل بن چکا ہے آئس پینے اور فروخت کرنے والے افراد اگر پکڑے بھی جائیں تو ان سے محض 5 گرام تک آئس بمشکل برآمد ہوتی ہے جو مقدمہ کے اندراج سے لے کر فرانزک لیب کے ٹیسٹ تک کے پراسس پر پورا اترنے کے لئے انتہائی کم ہے جبکہ شہری عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے پولیس پر مسلسل دبا ہے کہ آئس کے اس جان لیوا نشے کی فروخت کو ہر صورت روکا جائے موجودہ صورت حال آئس المعروف جاگو کے اس پھیلا کو روکنا پولیس کے لئے بڑا چیلنج بن چکا ہے پولیس کی جانب سے فوری طور پر ایسے موثر اقدامات کی ضرورت ہے کہ مزید نوجون اس جان لیوا نشے تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔




