آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہو گا، رانا تنویر حسین

لاہور(بیورو چیف)وفاقی وزیر تحفظ خوراک و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد یہ بات محسوس کی گئی سینٹرآف کمانڈ مضبوط ہونی چاہیے،تینوں افواج کا کمانڈ کاایک سربراہ ہوجس کی کمانڈ کو ایک ہی بندہ لیڈ کرے،27ویں آئینی ترمیم آئندہ ہفتے کے اندر سینٹ وقومی اسمبلی سے منظور ہوجائیں گی،آئینی ترمیم کی تمام شقوں پر حکومت کی اتحادی تمام جماعتوں سمیت سبھی متفق ہیں،18ویں ترمیم میں جس طرح صوبوں کواختیار دئیے گئے مگر وہ اس طرح کے نتائج نہیںدے سکے ،دوحہ میں افغانستان کی ناکامی پرقومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی ابھی ضرورت نہیں ،وزیر اعظم شہباز شریف کوشش کررہے ہیں کہ معاشی طور پر بھی مضبوط ہوں،2013سے 2018 میں نواز شریف کی قیادت میں ہم نے آئی ایم ایف کا کشکول توڑ دیا تھا 2018میں آنے والی تبدیلی ملک کو ڈیفالٹ کی طرف لے گئی،میری کوشش رہی ہے جہاں پاکستان کی خدمت کروں وہیں اپنے حلقے کے لوگوں کی بھی خدمت کروں، شیخوپورہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل سنٹر کے افتتاح پروائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈاکٹر ناصر اور ان کی ٹیم اور اہل شیخوپورہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین ین کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے تعلیم پر بہت فوکس کیا ،میں نے بطور وزیر تعلیم مرکزی سطح پر تعلیم کے فروغ کے لئے کام کیا،اسلام آباد کی یونیورسٹیاں دنیا میں ٹاپ میں آتی ہیں،کورونا میں اوپن یونیورسٹی کی اہمیت بہت بڑھی،اوپن یونیورسٹی کی اس وقت انرولمنٹ 11لاکھ ہے،اوپن یونیورسٹی سے بھی معیاری تعلیم مل رہی ہے،نئے کمپس میں کمپیوٹر کی کلاسز بھی فوری شروع کی جائیں ،شیخوپورہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کمپس کے قیام سے علاقے کے لوگوں کو معیاری تعلیم ملے گی،نیشنل سکل یونیورسٹی کا ایک کیمپس مریدکے میں بھی قائم کیا گیا ہے،جہاں موقع ملا ہے تعلیم کے فروغ کے لئے کام کیا،قائد اعظم یونیورسٹی کا کیمپس شرقپور میں قائم کیا گیا ہے،شیخوپورہ ہر لحاظ سے آگے جارہا ہے،شیخوپورہ میں تقریباً ہر یونیورسٹی کا کیمپس کام کررہاہے،کوشش ہے پنجاب یونیورسٹی کا کیمپس بھی قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صحت اور تعلیم پر بہت زیادہ کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ میں ہم نے بتایا ہم کیا ہیں،وزیر اعظم شہباز شریف کوشش کررہے ہیں کہ معاشی طور پر بھی مضبوط ہوں،2013سے 2018 میں نواز شریف کی قیادت میں ہم نے آئی ایم ایف کا کشکول توڑ دیا ،2018میں آنے والی تبدیلی ملک کو ڈیفالٹ میں لے گئی ،وزیر اعظم شہبازشریف نے محنت کرکے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ،دوست ملکوں نے ڈیفالٹ سے بچانے میں پاکستان کی بہت مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کردیا ہے،عالمی مالیاتی ادارے ہماری معیشت کی ترقی کی تعریف کررہے ہیں،یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگاجس کے بعد اپنے فیصلے خود کریں گے ،کسانوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں،حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500مقرر کی ہے،اس سال 62 لاکھ ٹن گندم خریدیں گے ،اس سال چاول کی فصل بھی اچھی ہوئی ہے ،دنیا میں پاکستان کے چاول کی بہت طلب ہے،پاکستانی میٹ کی بھی دنیا کی بہت مانگ ہے،ہماری برآمدات بڑھنی چاہیے اس سے معیشت بہتر ہوگی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم آئندہ ہفتہ کے اندر سینٹ وقومی اسمبلی سے منظور ہوجائے گی،آئینی ترمیم کی تمام شقوں پر حکومت کی اتحادی تمام جماعتوں سمیت سبھی متفق ہیں،آئینی عدالت کاقیام عمل میں لاجائے گا،،26ویں ترمیم میں بھی آئینی عدالت کاذکرتھا تاہم اس مرتبہ 5نئی شقیں لاکر آئینی عدالت عمل میں لائی جائے گی،بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد یہ بات محسوس کی گئی سینٹرآف کمانڈ مضبوط ہونی چاہیے،تینوں افواج کا کمانڈ کاایک سربراہ ہوجس کی کمانڈ کو ایک ہی بندہ لیڈ کرے،افواج پاکستان میںپہلے بھی جوائنٹ چیف کاعہدہ تھا اور وہ اتنا فعال نہیںتھا،نیاعہدہ بناکر اختیاردئیے جارہے ہیں،این ایف سی ایوارڈ پر ہماری تجاویزقومی مفاد میں ہیں۔آبادی کو کنٹرول کرنے کی باتیں کرتے ہیں جو صوبوں کے اختیار میں تھا لیکن بہتر نتائج نہیں آرہے تھے ،افسروں کی دوہری شہریت نہیں ہونی چاہیے جس پر پیپلزپارٹی نے اتفاق نہیں کیا مگرہم نے مسودے میں شامل کرلی ہیں،27ویں آئینی ترمیم سے نئے ڈھانچے کوکوئی فرق نہیں پڑے گا یہ صرف پروپیگنڈاکیا جارہاہے،وقت کے ساتھ ساتھ ترمیم کی ضرورت پیش آتی ہیں،18ویں ترمیم میں جس طرح صوبوں کواختیار دئیے گئے مگر وہ اس طرح کے نتائج نہیںدے سکے۔انہوںنے کہاکہ دوحہ میں افغانستان کی ناکامی پرقومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی ابھی ضرورت نہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان ہماراپرامن ہمسایہ بن کررہے نہ کہ کسی اور کی پرواکسی بن کر لڑے،کوشش کررہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوجائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں