اسلامی معاہدے باہمی رضا مندی،شفافیت اور انصاف پر مبنی ہوتے ہیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ سیمینار میں مقررین نے کہا کہ عالمی اسلامی مالیاتی صنعت کی ترقی نے خود کو بین الاقوامی مالیاتی نظام کے ایک اہم ستون کے طور پر منوا لیا ہے اور غیر مسلم ممالک بھی اس کو متبادل مالیاتی نظام کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ سائنسز کے زیراہتمام دو روزہ تربیتی پروگرام بعنوان ”اسلامک کیپیٹل مارکیٹس” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی چیف منیجر فیصل آباد فوزیہ اسلم نے کہا کہ شریعہ کے مطابق مالیاتی مصنوعات کے عالمی فروغ کے لیے ریگولیٹری تقاضوں کی پاسداری، سرمایہ کاروں میں آگاہی اور جدت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نظریے اور عملی میدان کے درمیان مضبوط ربط اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کی مستحکم ترقی کو یقینی بنائے گا۔ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور نے کہا کہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس روایتی مالیاتی نظام کے مقابلے میں شریعہ کے مطابق متبادل فراہم کرتی ہیں جو شفافیت ، نفع و نقصان میں شراکت اور اخلاقی سرمایہ کاری کو یقینی بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اس توسیع نے اسلامی مالیات کو ایک اہم تعلیمی شعبہ بنا دیا ہے۔ مفتی زبیر احمد نے شریعہ گورننس، مالیاتی آلات اور اخلاقی سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کی واضح سمجھ بوجھ پیدا کرنیکی ضرورت پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں