نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے انسدادِ اسلاموفوبیا اور اقوام متحدہ کے الائنس آف سیولائزیشنز کے ہائی ریپریزنٹیٹو، مسٹر میگوئل اینخل موراتینوس نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اسلاموفوبیا کے انسداد، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور انسانی حقوق کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف، بیرسٹر عقیل ملک بھی اس موقع پر موجود تھے۔وفاقی وزیر نے موراتینوس کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے انسدادِ اسلاموفوبیا مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کی اور ان کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے انسداد کے عالمی دن کے طور پر منائے جانے اور اسلاموفوبیا کے انسداد سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کی منظوری کو مذہبی عدم برداشت کے خلاف عالمی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا۔وفاقی وزیر نے مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور پْرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق، *نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس کے فعال کردار، اور بین المذاہب ہم آہنگی و مذہبی رواداری کی قومی پالیسی اور حکمتِ عملی کا بھی ذکر کیا، جن کا مقصد تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان، نفرت انگیز تقاریر، مذہبی امتیاز، مسلم کمیونٹیز اور عبادت گاہوں پر حملوں، آن لائن اشتعال انگیزی اور مذہبی شعائر و مقدس شخصیات کی بے حرمتی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کا انسداد بنیادی طور پر انسانی حقوق کا تقاضا ہے اور آزادی اظہار کو کسی بھی مذہب یا اس کے ماننے والوں کے خلاف نفرت، امتیاز یا تشدد کو ہوا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔وفاقی وزیر نے بھارت میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی رویوں، مذہبی آزادیوں پر عائد پابندیوں اور مسلم برادری کو نشانہ بنانے کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان امور پر مسٹر موراتینوس کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق، وقار اور مذہبی آزادیوں کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کی مسلسل توجہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ملاقات میں اسلاموفوبیا کے انسداد کے لیے مجوزہ *اقوام متحدہ کے پلان آف ایکشن*، اسلاموفوبیا سے متعلق بین الاقوامی نگرانی اور تحقیق کے فروغ، بین المذاہب مکالمے، اور رواداری، باہمی احترام اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ? خیال کیا گیا۔




