الیکٹرک ڈیوائسزپاکستان میں بنانیکا فیصلہ

اسلام آباد (بیورو چیف)حکومت کو درآمدی بل کم کرنے کیلئے الیکٹرانکس ڈیوائسز پر لیوی عائد کرنے کی تجویز دے دی گئی۔ ذرائع کے مطابق درآمدی بل گھٹانے کی حکومتی کوششیں کے تحت موبائل فونز، لیپ ٹاپس، سگنلز بوسٹرز ڈونگلز اور بائیو میٹرک مشینوں سمیت الیکٹرانکس ڈیوائسز اب پاکستان میں بنیں گی جس سے ڈیٹا محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کو کروڑوں ڈالر کی بچت بھی ہوگی۔ذرائع کے مطابق میڈ ان پاکستان پالیسی کی تحت تیار الیکٹرانک اشیا کی درآمد پر 5فیصد تک لیوی لگانے اور خام مال پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ 42کروڑ 23لاکھ ڈالر سے زائد کی الیکٹرانک ڈیوائسز درآمد ہوتی ہیں، ڈیوائسز کی مقامی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے امپورٹ پر لیوی لگانے کی تجویز ہے۔ پالیسی میں امپورٹڈ الیکٹرانک ڈیوائسز پر ایک سے 5 فیصد تک لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ ڈالر والی ڈیوائسز پر ایک فیصد اور 100ڈالر قیمت والی پر 2فیصد لیوی کی تجویز ہے۔دستاویز کے مطابق 300ڈالر تک کی اشیا پر 3فیصد اور 500ڈالر تک 5فیصد لیوی لگانے کی تجویز ہے، 500سے 700ڈالر کی درآمدی ڈیوائس پر 5فیصد لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔مقامی سطح پر ڈیوائسز کی تیاری کیلئے خام مال کی برآمد پر ٹیکس چھوٹ کی سفارش کی گئی ہے، پالیسی سے حکومت کو 7سال میں 104 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، 7سال میں مقامی طور پر تیار ڈیوائسز کی قیمت بھی 70فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں