فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پریس کلب میں قدیمی انجمن حیدریہ کے سینئر نائب صدر شہباز علی گوگی اور سرپرست سہیل کاشف سندھڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انجمن حیدریہ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کے نام پر امام بارگاہ حیدریہ امین پور بازار کے لائسنس موجود ہیں۔ ادارے کو امام بارگاہ کے انتظام و انصرام، مجالس، جلوس ہائے عزاداری، برآمدگی ذوالجناح، فنڈز، دکانات، مکانات اور دیگر جائیداد کے انتظام کا قانونی اختیار حاصل ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ دلاور عباس، فرحت عباس، قلب عباس، قمر عباس اور ذوالفقار قیوم ناجائز طور پر امام بارگاہ پر قابض ہیں، جس کے باعث فریقین کے درمیان تنازعات پیدا ہوئے اور معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انجمن حیدریہ کی جانب سے عدالت سے حکم امتناعی بھی حاصل کیا جا چکا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہاکہ تھانہ ریل بازار کے بعض سکیورٹی اہلکار اور افتخار حسین بھی مبینہ طور پر اس معاملے میں ساز باز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے انتظامیہ کو درخواستیں دے رہے ہیں تاکہ ناجائز قبضہ ختم کرا کے امام بارگاہ کا انتظام انجمن حیدریہ کے حوالے کیا جائے، تاہم تاحال کوئی موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔انہوں نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ امام بارگاہ حیدریہ امین پور بازار کے تمام انتظامی امور انجمن حیدریہ اور اس کے منتخب عہدیداران کے سپرد کیے جائیں اور ناجائز قبضہ واگزار کرایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے اور اپنے قانونی حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔




