امریکہ ایران جنگ سنگین’عالمی معیشت کا نظام تباہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بحری آمدورفت میں خلل ڈالنے کے معاملے پر فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔عرب میڈیا کے مطابق امریکی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ ایران کی جانب سے بحری راستے میں خلل ڈالنے کی صورتِ حال کو معمول یا مستقل حقیقت بننے سے روکا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکا عالمی معیشت کو بلیک میل کرنے کی ایران کی کوششوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر کرنے اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل کو شدید خدشات لاحق ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی تجارتی ٹریفک میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔دریں ثناء ۔تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فورسز نے ایران کے قومی یا سمندری اثاثوں کو نشانہ بنایا تو خطے میں موجود امریکی تیل اور گیس کی کمپنیوں اور ان کی اہم تنصیبات کو جوابی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں آئل ٹینکرز اور سمندری تجارتی راستوں پر حملوں کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بات بہت سادہ اور قابلِ فہم ہے، اس وسیع خطے میں پھیلائی گئی تیل و گیس کی پیداواری تنصیبات اور نظام ہماری پہنچ میں ہیں اور بے حد حساس ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ اگر آپ ہمارے اثاثوں پر حملہ کریں گے تو آپ پر بھی حملہ ہو گا، اور ہم پہلے بھی اپنی اس جوابی صلاحیت کو ثابت کر چکے ہیں، آپ اپنے ان فوجی اڈوں سے پوچھ لیں جو اب قابلِ استعمال نہیں رہے ہیں۔باقر قالیباف کی اس دھمکی سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی جہازوں پر فائرنگ کی تو ہم ان کے آئل ٹینکرز کو تباہ کر کے ڈبو دیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو امریکی بحریہ پر فائرنگ سے گریز کرنا ہو گا۔دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے خطے پر ایک وحشیانہ جنگ مسلط کی ہے اور اب اس کے معاشی اثرات اور ادائیگی کی توقع پوری دنیا سے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہونے کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ایسی صورتحال میں صرف ایران کو خطے میں افراتفری کا ذمہ دار قرار دینا سراسر مضحکہ خیز ہے۔اسماعیل بقائی نے یہ اہم انکشاف بھی کیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے عارضی اور محفوظ راستے کی فراہمی پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ اس معاہدے کو جلد بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں باقاعدہ رجسٹر کرا لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں