کراچی (بیورو چیف)وزیر داخلہ و ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق، بچوں کے تحفظ،وراثت سے محرومی،سرپرستی(گارڈین شپ) اور قانونی معاونت جیسے اہم مسائل صرف حکومتی اقدامات سے حل نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے مؤثر حل کیلئے حکومت، عدلیہ، سول سوسائٹی اور متعلقہ ادارو ں کے درمیان مضبوط اشتراک اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ انسانی حقوق اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطا ب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لیگل ایڈ سوسائٹی انسانی حقوق کے فروغ اور عوام کو قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے قابل قدر خدمات انجام دے رہی ہے، جن سے بالخصوص دیہی علاقوں کی خواتین کو بھرپور فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ خواتین کو وراثت سے محروم رکھنے، بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور دیگر سماجی مسائل کے بارے میں عوامی شعور میں اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرور ت ہے۔ انہوں نے اس شعبے میں خدمات انجام دینے والے ماہرین اور اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد معاشرے کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت انسانی حقوق کے تحفظ اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی معاونت (لیگل ایڈ) کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بندی اور باہمی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف اجلاس منعقد کرنا نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات کرنا ہے جن کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ہمیشہ عوامی خدمت اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے بقول، خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری سمیت پارٹی کی پوری قیادت کی اولین ترجیح عوام کی فلاح و بہبود اور انہیں بہتر سہولیات کی فراہمی ہے۔




