ایران کے امریکی اڈوں پر بھرپور حملے،خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی جانب سے اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکہ نے بھی ایران پر جوابی حملے شروع کر دیئے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے جزیرہ قشم اور سیرک پر حملے کیے ہیں، امریکی فوج مخصوص اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام کا مزید کہنا تھا کہ یہ حملے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ایرانی خبرایجنسی نے حملے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی صوبے ہرمزگان کے مشرقی علاقوں میں بھی دھماکے سنے گئے، سیریک اور ایرانی جزیرے قشم پر بھی حملہ کیا گیا جبکہ بندرعباس میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، جو امریکی ہیلی کاپٹر کے مبینہ طور پر مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد شروع کی گئی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد ایران کا جوابی ردعمل بھی شروع ہو چکا ہے، پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ایرانی خبر ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی فورسز نے بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کی طرف میزائل داغ دیے ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے بعد علاقے میں صورتحال اب پرسکون ہے اور فضائی کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں، حملوں کے دوران قشم جزیرہ، سیرک، جاسک اور کوہ مبارک کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دھماکوں اور فضائی سرگرمیوں کے بعد اب کسی نئے حملے یا فوری کشیدگی کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ مقامی سطح پر حالات معمول پر آ گئے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والا امریکی فوج کا انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا تھا کہ اگرچہ ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹس محفوظ رہے ہیں لیکن پھر بھی امریکہ کو اس حملے کا لازمی طور پر جواب دینا ہوگا۔دوسری جانب ایران نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی، ایرانی نائب وزیر خارجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ تہران کا امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر پر حملے سے کوئی تعلق نہیں۔دریں ثناء ۔تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے امریکا کے حملوں کے بعد بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حملے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میرائل استعمال کئے گئے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ بحرین، کویت، اردن سمیت خطے میں بعض امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، کارروائی جنوبی ایران میں امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا، اردن میں امریکی الازرق فوجی اڈے پر میزائل سے اٹیک کیا، الازرق اڈے پر 4 اہداف کو نشانہ بنایا، ایف 35 ہینگرز اور کمانڈر اینڈ کنٹرول سینٹر شامل ہیں۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ حملے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میرائل استعمال کئے گئے۔اس کے علاوہ کویت میں واقع علی السالم فوجی اڈے پر بھی ڈرون حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے، ادھر کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہے اور ملکی فضائی حدود کی نگرانی جاری ہے۔ایرانی پاسداران کا مزید کہنا تھا کہ امریکی حملوں سے سیریک میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا، حملوں میں 2 واٹر ٹینک بھی تباہ ہوئے، امریکی جارحیت برقرار رہی تو مزید سخت جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر تہران پر حملے اپنے دفاع میں کئے۔جنوبی ایران میں فضائی حملوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی حکام نے کہا کہ دیگر مقامات کے علاوہ حملوں میں 20 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جو بظاہر مختصر وقفوں پر 3 لہروں میں کیے گئے تھے۔ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی شہروں جیسا کہ جسک اور بندر عباس کے آس پاس، مناب، سرک اور کوہ مبارک کے دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا، لیکن اس نے ابھی تک ان تنصیبات یا مقامات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں جن پر حملہ کیا گیا ہے۔تاہم ہرمزگان میں مقامی حکام نے اطلاع دی ہے کہ سرک کے دیہات میں پانی کے دو ذرائع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ہرمزگان پراونشل واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ہے کہ آج صبح امریکی حملوں کے بعد سرک کانٹی میں پانی کی تقسیم کا اہم انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطی کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی حساس ہوگئی ہے، جبکہ عالمی برادری فریقین سے تحمل اور مزید تصادم سے گریز کی اپیل کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں