ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیلیوں کی چیخیں نکال دیں

تہران، مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی بربریت جاری ہے جس کے جواب میں ایران نے آج صبح سویرے تل ابیب، حیفہ ، تامرا بستی اور کئی شہروں کو 100سے زائد بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں سے نشانہ بنایا’ڈرون بھی استعمال کیے جس سے 8اسرائیلی ہلاک اور 200سے زائد زخمی ہو گئے۔ایرانی حکام نے بتایا کہ میزائلوں اور ڈرون سے اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، شمالی اسرائیل اور ساحلی شہر حیفہ میں میزائل ٹارگٹ پر ہٹ کئے ، اسرائیلی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے، ہر طرف خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی، متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔اسرائیلی میڈیا نے تل ابیب ، حیفہ اور دیگر شہروں میں ایرانی میزائل گرنے کی تصدیق کر دی، ایرانی حملوں میں ایک خاتون سمیت چھ اسرائیلی ہلاک ہو گئے ، حیفہ میں آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی ۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل باز نہ آیا تو حملے مزید بڑھائیں گے۔اسرائیلی دفاعی نظام بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں کو تباہ نہ کر سکا ایران نے کامیابی کے ساتھ لڑاکا طیاروں کو تیل فراہم کرنے والی اسرائیلی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، گلیلی پر ایرانی حملے میں 2اسرائیلی ہلاک 13زخمی ہوئے۔دوسری طرف ایران نے ایک گھنٹے میں اسرائیل کے10طیارے مار گرانے کا دعوی کیا ہے، ایران نے اس سے پہلے بھی اسرائیل کے 3ایف 35طیارے مارگرانے کا دعوی کیا تھا۔اسرائیل نے تہران، بندرعباس،تبریز اور دیگر شہروں میں میزائل داغ دیے، تہران میں وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا۔اسرائیلی حکام کے مطابق ایران میں40اہداف کو نشانہ بنایا، تہران میں وسیع پیمانے پر حملے کئے، ایرانی جوہری ہتھیاروں کی تنصیب اور ایندھن ذخائر کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حملوں سے تہران میں تیل کے 2ڈپو متاثر ہوئے، بوشہر میں جنوبی پارس گیس فیلڈ میں بھی آگ لگ گئی۔ایرانی حکام کا مقف ہے کہ تیل کی تمام تنصیبات پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا ہے، ایران نے مزید دو فوجی کمانڈرز اور مزید 4جوہری سائنسدانوں کی شہادت کی تصدیق کر دی، اسرائیلی حملوں میں اب تک 134افراد شہید، 431زخمی ہو چکے ہیں، شہداء میں 20معصوم بچے بھی شامل ہیں۔خاتم الانبیا ائیر ڈیفنس بیس کے کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ ایک گھنٹے کے دوران ایران کے مختلف شہروں میں 10اسرائیلی طیاروں کو مار گرایا گیا ہے۔اسرائیلی حکام نے ایرانی فوج کے دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھی ایرانی میڈیا کی جانب سے 3اسرائیلی ایف 35طیارے مار گرانے اور ایک خاتون پائلٹ سمیت 2 اسرائیلی پائلٹوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم اسرائیلی افواج نے ان دعوئوں کی تردید کی تھی۔ادھر یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر میزائلوں سے دوسرا بڑا حملہ کیا جس کی تصدیق اسرائیل نے بھی کر دی ہے۔حوثی رہنمائوں نے کہا کہ فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل پر میزائل برسا رہے ہیں، حوثی رہنمائوں نے زور دیا کہ ہم صرف اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، اسرائیل نے تصدیق کی کہ اس بار صرف ایران سے میزائل نہیں آ رہے بلکہ یمن سے بھی حملے ہو رہے ہیں اور یہ یمن سے حملوں کی دوسری لہر ہے۔اس سے پہلے حوثیوں نے گزشتہ دنوں اسرائیل پر میزائل برسائے تھے جو اسرائیل کی جانب سے یمنی بندرگاہ کو نشانہ بنانے کا جواب تھا۔اسرائیل نے ایران کے بھرپور ردعمل سے گھبرا کر امریکہ سے براہ راست ایران پر حملوں میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے جسے امریکہ نے رد کر دیا ہے۔ادھر امریکا نے اسرائیل کی مدد کے لیے یوکرین سے بعض میزائل دفاعی نظام مشرق وسطی منتقل کر دیے، امریکی وزیر دفاع نے میزائل دفاعی نظام کی منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں اپنے (اسرائیلی) لوگوں کو بچانے کے لیے تمام تر وسائل استعمال کر رہے ہیں۔یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یوکرین بھیجے جانے والے 20ہزار میزائل مشرق وسطی بھیج دیئے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائلر ہوئی ہے جس میں اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے میڈیا ونگ کے ترجمان ایرانی حملوں سے خوفزدہ ہو کر خوف سے کانپتے نظر آ رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل میں خط جمع کرا دیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ مغربی پابندیوں کے جواب میں ایران جوہری عدم پھیلا معاہدے سے علیحدہ ہو جائے گا، ایرانی مندوب سعید ایروانی کے مطابق برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے پابندیاں لگانے کی کوشش کی تو اقدام کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں