اسلام آباد (عظیم صدیقی) KP میں گورنر راج کے بعد اب ایک بار پھر 28 ویں ترمیم لانے کی تیاریاں’ پارلیمان کی لابیوں میں ترمیم کے حوالے ارکان پارلیمنٹ کھل کر کہہ رہے ہیں۔ حکومت اور حکومتی اتحادیوں کے لیے ایک نیا آزمائشی مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب 18 ویں ترمیم میں بے جا مالی رعائتوں کی واپسی ہو گی، صوبوں کے ساتھ ساتھ وفاق کو مالی لحاظ سے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونیوالی ایجنسیاں دوبارہ وفاق کے زیرانتظام آ سکتی ہیں۔ گوادر اور کراچی کو بھی وفاق کے دائرہ اختیار میں لانے پر غور وخوض سنجیدہ مرحلے میں ہے۔ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس ہر حال میں بنیں گے۔ صوبوں سے نئے صوبے بنانے کی قرارداد کی منظوری دینے نہ دینے کا اختیار واپس لیا جائیگا۔ صرف پارلیمان کو ہی اختیار ہو گا کہ وہ نئے صوبے بنانے کی منظوری دے۔ اسی طرح کی دیگر شقیں بھی شامل ہیں۔ مقصد وفاق کو مضبوط بااختیار بنانا ہے۔




