صفدرآباد(نامہ نگار)اسسٹنٹ کمشنر صفدرآباد میاں عدیل اسلم کی تاجروں کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ،دکانداروں کے سروں پر جوں تک نہیں رینگی،سرکاری احکامات کھوہ کھاتے۔اسسٹنٹ کمشنر نے انجمن تاجراں سے ملاقات میںگزشتہ ماہ کے آخری ہفتہ میں دکانداروں کو ڈید لائن دی تھی کہ وہ اپنی دکانوں کے شٹر فٹ پاتھ کی سطح سے دس فٹ اونچائی تک کروالیںاور اپنا سامان فٹ پاتھ پر سے ہٹا لیں،ڈیڈ لائن ختم ہو گئی مگر دکانداروں نے فٹ پاتھ پر بدستور قبضہ جما رکھا ہے۔شہریوں نے بتایا کہ کہاں گئی اسسٹنٹ کمشنرکی ڈ یڈ لائن؟ایک شہری نے کہا کہ اگر اپنے حکم کی تعمیل نہیںکروا سکتے تو کیا فائدہ۔اردو بازار اور گوشت مارکیٹ کے دکانداروں کی اکثریت نے فٹ پاتھ پر سامان رکھا ہوا ہے،چلنے والوںکو تکلیف کا سامنا ہے مگر دکاندار ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ایک اور شہری نے کہا کہ یہ تو پیرا فورس اور دکانداروںکی ملی بھگت لگتی ہے،کمال کی بات ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر بے بس ہو گئے۔ایک دکان دار،،امتیاز چسکا پوائنٹ،، پر فٹ پاتھ پر رکھے ہوئے گیس سلنڈر کو آگ لگتے لگتے بچی،راہ گیر خواتین نے بڑی مشکل سے خود کو بچایا ،کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا تھا ، فٹ پاتھ پر دکاندار نے سموسے بنانے کے لئے کڑاہی رکھی ہے اور سلنڈر استعمال ہوتا ہے سر عام آگ جل رہی ہوتی ہے اور فٹ پاتھ پر سموسے بن رہے ہیں،دہی بھلے کا شوکیس بھی فٹ پاتھ پر رکھا ہوا ہے ،گردو غبار ان اشیاء پر پڑتا ہے مگر لوگ کھائے جا رہے ہیں،اس قوم کی حالت کب بدلے گی ایک شہری نے نمائندہ ڈیلی بزنس رپورٹ سے پوچھ لیا،پھر خود ہی کہا کہ بہت مشکل ہے ۔یہ تو ایک مثال ہے بازار جا کر تو دیکھیں،فٹ پاتھ تو بنا تھا عوام کے گزرنے کو لیکن قبضہ دکانداروں کا ہے،ماڈل بازار بنتے کئی ماہ ہو چکے ابھی تک معاملہ گڑبڑ ہے ،نیوز رپورٹر لکھتے تھک چکے مگر شہریوں کی آہو زاری پر کوئی توجہ ہی نہیں ہو پا رہی۔




