فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی مشیر داخلہ ملک اصغر علی قیصر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس عوام اور صنعتکاروں کیلئے پریشانی کا با عث ہے ۔ ہزاروں کارخانے جزوی طور پر بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث لاکھوں محنت کش بے روزگار ہو رہے ہیں۔ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اگر صنعتوں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو معاشی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ ہم پٹرولیم لیوی کو بھتہ خوری کے مترادف سمجھتے ہیں کیونکہ اس کا بوجھ براہِ راست محنت کشوں، ٹرانسپورٹرز، کسانوں اور عام شہریوں پر منتقل ہوتا ہے۔ ملک اصغر علی قیصر نے کہا کہ اسی طرح ایل پی جی گیس کی بے قابو قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کا گھریلو بجٹ تباہ کر دیا ہے ڈائزاینڈ کیمیکلزکاشعبہ، ٹیکسٹائل، پاور لوم اور دیگر چھوٹی بڑی صنعتیں شدید بحران کا شکار ہیں۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اوربحران پرگہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے ملک اصغر علی قیصر ایڈووکیٹ کہاکہ فیصل آبادملک کا صنعتی دل ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے ٫ بجلی کے بلوں میں ناجائز ٹیکسوں اور اضافی سرچارجز نے صنعت، تجارت اور عام صارفین کی کمر توڑ دی ہے۔ عوام فیصل آباد نے وفاقی حکو مت سے مطا لبہ کیا کہ فوری طور پر بجلی کے بلوں میں شامل غیر ضروری ٹیکس ختم کیا جائے اور سستی بجلی فراہم کی جا ئے تاکہ صنعت کا پہیہ دوبارہ پوری رفتار سے چل سکے،بے روز گاری ختم ہو سکے ۔




