وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ بجلی کی پیداوار کیلئے درآمدی ایندھن پر انحصار کو کم سے کم اور بجلی چوری کے واقعات میں ملوث افراد سے کسی قسم کی رعایت نہ کی جائے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت پاور سیکٹر سے متعلقہ اصلاحاتی اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ’ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ’ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک’ وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری’ مشیر برائے نجکاری محمد علی’ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں کئے جانیوالے فیصلوں پر فوری عمل کرنا چاہیے، ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں توانائی کی ضروریات قابل تجدید توانائی سے پورا کرنے کیلئے جامع حکمت عملی بنائی جائے، پن بجلی’ شمسی توانائی اور بائیو گیس سمیت دیگر قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار سے پیداواری لاگت میں مزید کمی ہو گی اور معیشت کی ترقی پر مثبت اثرات بھی مرتب ہونگے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کیلئے اقدامات میں تیزی لانا بھی خوش آئند ہے۔ بجلی چوری کے واقعات میں ملوث افراد سے کسی قسم کی رعایت نہ کرنے کا فیصلہ بھی قابل تحسین ہے، شہباز شریف نے حکم دیا کہ حالیہ دنوں میں بجلی کی جن تقسیم کار کمپنیوں نے ”اکنامک میرٹ آرڈر” کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی یقینی بنائی جائے۔ بجلی چوری والے علاقوں میں ٹرانسفارمر پر اسمارٹ میٹر نصب کرنے کے منصوبے کے نفاذ میں تیزی لائی جائے۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے اجلاس میں ٹیکس مقدمات کے حوالے سے بنائی گئی ٹاسک فورس کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ اجلاس میں ٹاسک فورس کی طرف سے پیش کردہ ایکشن پلان کی بھی منظوری دی گئی۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ توانائی کے منصوبوں کو مزید بہتر بنانے کی پلاننگ بھی کی جائے۔ گھریلو صارفین کو بھاری بجلی بلوں سے بھی فوری طور پر نجات دلانے کی ضرورت ہے۔ موسم گرما میں بار بار کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے مریض’ بوڑھے’ بچے’ خواتین اور طالب علم بھی اذیت سے دوچار ہیں۔ لہٰذا لوڈشیڈنگ پر فوری قابو پانا چاہیے، بجلی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کو بھی روکنے کی اشد ضرورت ہے۔ بجلی چوری ایک سنگین مسئلہ اختیار کرتی جا رہی ہے اور اس کا سدباب وقت کی اہم ضرورت بھی ہے سابقہ حکومتوں نے بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف کئی طرح کے اقدامات بھی کئے تھے لیکن عملی طور پر اس پر کوئی ٹھوس پیشرفت نہ ہو سکی۔ حالیہ حکومت نے بجلی چوری میں ملوث کالی بھیڑوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔ کیونکہ یہی کالی بھیڑیں ملک کے لیے ایک بڑا المیہ ہے اور اس المیے کو جڑ سے اکھارنے کیلئے حکومت عملی طور پر میدان میں آ گئی ہے۔ مہنگی بجلی سے صنعتی صارفین جن کی انڈسٹری بند ہونے کے دہانے پر ہے، بجلی کی پیداوار سے بند یونٹ دوبارہ سے ورکنگ میں آ جائیں گے اور ملک میں کاروباری حجم کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ انڈسٹری کے چلنے سے بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہو گا۔ بجلی کی پیداوار سے انڈسٹری کا پہیہ بھی دوبارہ سے چلنا شروع ہو جائے گا۔ ملک میں بڑے بڑے صنعتی یونٹ جو کہ بجلی کی پیدوار سے چلتے ہیں ان کو اپنے صنعتی یونٹس کو ترقی دینے کیلئے خود سے بجلی پیدا کرنے کے یونٹ بنانے ہونگے اس طرح انہیں بہت کم ریٹ پر بجلی کا یونٹ پڑے گا اور صنعتی پیداوار میں بھی اضافہ ہو گا۔ بجلی کی پیداوار کا ایک انحصار کوئلہ سے بجلی پیدا کرنا بھی ہے، اگر ملک میں کوئلہ سے بجلی پیدا کی جائے تو یہ ملک وقوم کیلئے ایک اہم سنگ میل ہو گا۔ حکومت کو بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے باہر کی کمپنیوں پر انحصار کم سے کم کرنا ہو گا۔ ملک میں جاری بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے والے اداروں کو جدید قسم کی سہولیات سے آراستہ کرنا ہو گا۔ پرانے طرز کے بجلی کے پیدا کرنے کے طریقوں کو ترک کرنا ہو گا۔ نئے اور جدید قسم کے طریقوں کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانا ہو گا تاکہ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکے، یقینی طور پر اس سے توانائی بحران کے حل میں بڑی مدد ملے گی۔




