فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان فلاح پارٹی کے چیئرمین محمد رمضان مغل ایڈووکیٹ،سید آفتاب عظیم بخاری سینئر وائس چیئرمین ، پرو فیسر سید راشد علی گردیزی، چوہدری ضمیر گجر صدرپنجاب شمالی، میاں راشد حفیظ، محمد رفیق لودھی ودیگر ذمہ دارا ن نے وفاقی بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیش کیے گئے بجٹ میں عوامی فلاح، مہنگائی کے خاتمے، روزگار کی فراہمی، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جبکہ قرضوں کی ادائیگی اور حکومتی اخراجات کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ حکومت کی ترجیحات عوام نہیں بلکہ قرضوں کے بوجھ اور نمائشی ترقیاتی منصوبوں تک محدود ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجموعی بجٹ 18 ہزار 771 ارب روپے رکھا گیا مگر اس میں سے 8 ہزار 54 ارب روپے صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کر دیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی معیشت آئی ایم ایف اور بیرونی قرضوں کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے۔ دوسری جانب عوام کو ریلیف دینے، روزگار پیدا کرنے اور مہنگائی کم کرنے کے لیے کوئی واضح اور موثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ذمہ داران نے کہا کہ دفاع، انتظامی اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں پر کھربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن صحت کے لیے صرف 25 ارب، اعلی تعلیم کے لیے 46 ارب اور اسکول تعلیم کے لیے محض 26 ارب روپے مختص کرنا قوم کے مستقبل سے مذاق کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ملک جہاں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہوں، ہسپتالوں میں ادویات نہ ہوں اور نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہوں، وہاں تعلیم اور صحت کو ترجیح نہ دینا حکومتی ناکامی ہے




