حالیہ برسوں میں بچوں میں موٹاپا ایک سنگین صحتِ عامہ کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال، جسمانی سرگرمیوں میں کمی، موبائل اور ٹی وی کا زیادہ استعمال، اور غیر متوازن غذا بچوں کی صحت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ جو مسئلہ پہلے صرف بڑوں میں دیکھا جاتا تھا، اب اسکول جانے والے بچوں میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
بچپن کا موٹاپا صرف وزن بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، کم اعتمادی، ذہنی دبائو اور سماجی مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ زیادہ تر موٹے بچے بڑے ہو کر بھی انہی بیماریوں کا شکار ر ہتے ہیں، اس لیے اس کی بروقت روک تھام انتہائی ضروری ہے۔
والدین بچوں کی غذائی عادات بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صحت مند زندگی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ بچوں کو پھل، سبزیاں، دودھ، انڈے، دالیں اور متوازن غذا کھانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اس کے برعکس کولڈ ڈرنکس، چپس، میٹھی اشیا اور فاسٹ فوڈ کے استعمال کو محدود کرنا ضروری ہے۔ کھانے کو انعام کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے صحت مند کھانے کی ترغیب دینی چاہیے۔
جسمانی سرگرمی بھی بچوں کی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔ آج کل بچے اپنا زیادہ وقت موبائل فون، ویڈیو گیمز اور ٹی وی کے سامنے گزارتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو کھیل کود، سائیکلنگ، واک اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ اسکولوں میں بھی کھیلوں اور جسمانی تعلیم کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
غیر صحت بخش غذائوں کی تشہیر بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اشتہارات بچوں کو میٹھی اور غیر معیاری غذاں کی طرف مائل کرتے ہیں۔ میڈیا، تعلیمی اداروں، ڈاکٹروں اور حکومت کو مل کر صحت مند معاشرہ بنانے کے لیے اقداما ت کرنا ہوں گے۔
بچوں میں موٹاپے کی روک تھام کے لیے مہنگے اقدامات کی ضرورت نہیں۔ گھر کا کھانا، روزانہ ناشتہ، میٹھی اشیا میں کمی، اور جسمانی سرگرمی جیسی چھوٹی عادات بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں، اس لیے والدین کو خود بھی صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ہوگا۔
صحت مند بچے ہی ایک مضبوط اور کامیاب قوم کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر ہم آج ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو آنے والی نسلوں کو بیماریوں سے بچا کر ایک روشن اور صحت مند مستقبل دے سکتے ہیں۔




