لکھنؤ (مانیٹرنگ ڈیسک) بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے پاکستان کو بدنام کرنے اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک نئی سازش کرنے کی کوشش کی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس سازش کے تحت ریاست اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے چار افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جو مبینہ طور پر دہشت گرد گروپ کا حصہ ہیں اوریہ ریلوے انفراسٹرکچر سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ گروپ پاکستانی ہینڈلرز کی ایماء پر کام کرتا تھا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھار ت میں اندرونی بحرانوں کے دوران اکثر اس طرح کے پاکستان مخالف بیانیے سامنے آتے ہیں جن کو مودی حکومت اپنے اندرونی سیاسی، اقتصادی اور خارجہ پالیسی کی ناکامیوںسے توجہ ہٹانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔بھارتی حکام کے حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ گروپ مبینہ طور پر فوجی اداروں، پولیس اسٹیشنوں، سیاسی شخصیات اور ریلوے کے انفراسٹرکچر کی جاسوسی کر رہا تھا اور ان پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر ٹیلی گرام، سگنل اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے مبینہ ہینڈلرز سے بات چیت کی۔ اس گروپ کی قیادت مبینہ طور پر میرٹھ کے 25 سالہ ثاقب عرف”شیطان” کررہاتھا۔ دیگر ارکان میں وکاس گہلاوٹ عرف رونق، لوکیش عرف پاپلا پنڈت عرف بابو عرف سنجو ـ دونوں گوتم بدھ نگر کے رہنے والے ہیں اور ارباب جس کا تعلق میرٹھ سے ہے۔لکھنؤ کے اے ٹی ایس پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیا ئے سنہتا (بی این ایس) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ یہ گروپ غیر ملکی ہدایات پر تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرکے بھارت کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لئے کام کر رہا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے مقاصد کا تعین کرنے اور دیگر ممکنہ روابط کی نشاندہی کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارت نے پاکستان سے منسلک دہشت گرد گروپ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ماہرین نے پہلے ہی خبردارکیاتھا کہ بھارت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے اوراپنی اندرونی اوربیرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے نت نئی سازشیں کرے گا۔




