بھکاریوں کے گرد شکنجہ مزید سخت کرنیکا فیصلہ

لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے صوبے میں گداگری کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے کی تیاری کرلی ہے اور ویگرنسی آرڈیننس 1958میں اہم ترامیم کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔مجوزہ ترامیم کے تحت بچوں سے بھیک منگوانے کے قانون میں عمر کی حد 14سال سے بڑھا کر 16سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بچوں کو گداگری سے نہ روکنے والے والدین اور سرپرستو ں کیخلاف بھی کارروائی کی شق شامل کرنے کی تجویز ہے۔مسودے کے مطابق غفلت کے مرتکب والدین اور گارڈینز کو 3ماہ سے 3 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی، جبکہ ان پر 3 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کرنیکی تجویز شامل ہے۔مجوزہ ترامیم میں ڈی جی سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کو پنجاب کا کنٹرولر آف ویگرنسی مقرر کرنے کی منظوری بھی شامل ہے۔ کنٹرولر آف ویگرنسی کو صوبے بھر میں گداگر مافیا کے خلاف آپریشنز کرنے اور گداگری میں ملوث افراد کی بحالی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔حکام کے مطابق گداگری میں ملوث افراد اور گداگر مافیا کا مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے کارروائیوں اور بحالی کے عمل کو موثربنانے میں مدد ملے گی۔ترمیمی بل کی منظوری کے بعد پنجاب میں گداگری کیخلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں