نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) مصنوعی ذہانت (اے آئی)نے بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، حیران کن طبی تحقیق سامنے آگئی۔امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ کے ماہرین نے MAI-DxO ایم اے آئی-ڈی ایکس او نامی ایک نیا میڈیکل مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل تیار کیا ہے۔ایم اے آئی کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے طبی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ایک نئے اے آئی نظام نے بیماری کی نہ صرف زیادہ درست تشخیص کی بلکہ کم طبی ٹیسٹ اور کم اخراجات کے ساتھ بیماری کو شناخت کرنے میں کامیابی حاصل کی۔مائیکروسافٹ کے تیار کردہ MAI-DxO نامی اے آئی تشخیصی نظام کا مقصد ڈاکٹروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ انہیں پیچیدہ طبی کیسز کو مرحلہ وار سمجھنے اور درست تشخیص تک پہنچنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔تحقیق کے مطابق امریکا کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں عام طور پر سامنے آنے والی بیماریوں کے کیسز پر جب اس نظام کو آزمایا گیا تو اس نے ڈاکٹروں کے مقابلے میں تقریبا 1.7 گنا زیادہ درست تشخیص کی۔نتائج کے مطابق تحقیق میں صرف درست تشخیص ہی نہیں بلکہ علاج کے اخراجات اور طبی ٹیسٹوں کی تعداد کو بھی اہم قرار دیا گیا۔اے آئی نظام نے بعض کیسز میں ڈاکٹروں کے مقابلے میں تقریبا نصف یا ایک تہائی اخراجات میں درست تشخیص تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی، جبکہ نسبتا کم ٹیسٹ اور طبی طریقہ کار استعمال کیے گئے۔ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے مستقبل میں ایسے طبی نظام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جو ڈاکٹر کو مریض کی علامات، طبی تاریخ اور ٹیسٹوں کی معلومات مرحلہ وار سمجھنے، ممکنہ بیماریوں کا موازنہ کرنے اور غیر ضروری ٹیسٹوں سے بچنے میں مدد دے۔امریکی جریدے سائنس کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کے دوران ڈاکٹر اے آئی عام امراض کی تشخیص کرنے میں 83.2 فیصد کامیاب رہا جبکہ انسانی ڈاکٹر اسی تجربے میں صرف 36.1فیصد کامیابی پا سکے۔ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے کیسوں والے تجربے میں ڈاکٹر اے آئی کو 80.3 فیصد کامیابی ملی جبکہ انسانی معالجین تقریبا اس سے نصف 46.8 فیصدکامیابی حاصل کرسکے۔




