ساہیوال( بیورو چیف )بینک آف پنجاب نور شاہ میں ایک کروڑ 80 لاکھ 72 ہزار روپے کے غبن کا انکشاف بینک آفیسر متوازی بینکنگ کا بھی مرتکب ہوا بینک آف پنجاب کی انتظامیہ نے ایک اعلی سطحی ٹیم سینیئر آفیسر فیصل بٹ کی سربراہی میں بنا دی اس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ بینک آفیسر رو پوش ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق بینک آف پنجاب نور شاہ کی برانچ میں ایک پی پی او پر سنا ل آفیسر خاور شہزاد ڈھائی سال قبل تعینا ت ہوا جس نے اپنے رشتہ داروں سے تعلقات کی بنا پربینک کے اکاؤنٹ ہولڈروں سے تعلقات بنا ئے اور رقوم لے کر چیک جمع کرانا اور پھر خود ہی چیک دستخط کر کے رقوم نکلوا کر کچھ اکاؤنٹ ہو لڈروں کو دینا اوراس رقم میں سے خود غبن بھی کر لینا اسیکنڈ ل کا انکشاف اس وقت ہوا جب محمد بوٹا چوہدری نور شاہ کی بیوی کلثوم جسے اس کے والدین نے وراثت کا حصہ15 لاکھ 29 ہزار روپے دیے جو بینک اکاؤنٹ میں جمع تھے جب بینک سے رقم لینے گئی تو رقم جعلی چیک کے ذریعے ملزم نکلوا چکا تھا اس کے بعد ایک بیوہ خاتون رانی کے ساڑھے 42 لاکھ روپے بھی بینک آفیسر نے خاتون کے شناختی کارڈ کے نمبر پر اپنے کارڈ کا نمبر لکھوایا اور پھر موبائل نمبر اپنا ایڈ کر کے دوسرا اے ٹی ایم کارڈ بنوایا اور رقم خود نکلوا کر ہڑپ کر لی۔




