اسلام آباد (بیوروچیف) بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے سلسلے میں ٹیکس تجاویز پر مشاورت جاری ہے، جبکہ ایف بی آر نے ٹیکس چوری روکنے کیلئے نئے اقدامات کا خاکہ بھی پیش کردیا۔دستاویزات کیمطابق صنعتی پیداوارکی نگرانی کیلئے موثرنظام متعارف کرانے کافیصلہ کیاگیا ہے،ایف بی آرکا دعوی ہے کہ شوگر،سیمنٹ،تمباکو اور کھاد کے شعبوں میں نگرانی کا نظام مکمل طور پر نافذ کیاجاچکا ہے، جبکہ اکتوبر 2026 تک ٹیکسٹائل اوربیوریجزسیکٹرکی مکمل نگرانی کا ہدف مقررکیا گیا۔ذرائع کیمطابق صنعتی پیداوارکی نگرانی کیلئے دوسو ٹیکس افسران تعینات کیے گئے ہیں، دوسری جانب ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ایک بار پھر نئی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ایف بی آر کیمطابق نئی فکسڈ اسکیم کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے تک سیل کرنے والے تاجروں سے ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا،حکام کاکہنا ہے کہ 30 لاکھ تاجروں کا ڈیٹا پہلے سے موجود ہے جبکہ ملک بھر میں مزید رجسٹریشن بھی کی جائے گی۔دستاویزات کیمطابق فعال سیلز ٹیکس دہندگان کیلئے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم اپنانا لازمی قراردیدیا گیا ہیاوراس مقصدکیلئے 31 جولائی 2026 کی ڈیڈ لائن مقررکی گئی ہے،ایف بی آرکاکہنا ہیکہ مارچ 2026 تک ایک تہائی ٹیکس دہندگان نے لائیو ڈیجیٹل انوائسنگ کا اجرا شروع کردیا تھا۔حکام کیمطابق ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم نہ اپنانے والوں کیلئے سخت سزائوں کی تیاری کی جارہی ہے، جبکہ کارپوریٹ اور نان کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کیلئے رسک مینجمنٹ سسٹم بھی نافذ کردیا گیا ہے۔ایف بی آر دستاویزات کے مطابق مارچ 2026 تک 431 نئے آڈیٹرز بھرتی کیے جاچکے ہیں جبکہ جون تک مزید 396 آڈیٹرز کی بھرتی کا منصوبہ بھی تیار ہے۔




