ترسیلات زر میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی محنت کی کمائی وطن بھیج کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جو کہ ملکی ترقی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ موجودہ معاشی حالات میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ بیرون ملک پاکستانی اپنے ملک کی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس مثبت رجحان کو برقرار رکھنے کیلئے قانونی اور بینکاری ذرائع سے رقوم کی منتقلی کو مزید آسان اور پُرکشش بنائے تاکہ اوورسیز کو رقوم کی منتقلی میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے ماہ ترسیلات زر کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بنک نے ترسیلات زر کا ماہانہ ڈیٹا بھی جاری کر دیا گیا۔ پاکستانیوں نے جولائی میں 3 ارب 60کروڑ ڈالرز وطن بھیجے۔ ترسیلات زر کی مد میں ماہانہ 4.5 فیصد اور سالانہ 13 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی میں سب سے زیادہ 91کروڑ 40لاکھ ڈالر سعودی عرب سے آئے۔ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ 73کروڑ 73لاکھ ڈالر یو اے ای سے بھی بھیجے گئے۔ برطانیہ سے پاکستانی 55کروڑ 55 لاکھ ڈالرز بھیج کر تیسرے نمبر پر رہے۔ یورپی یونین سے پاکستانیوں نے 46کروڑ ڈالرز وطن بھیجے، دیگر خلیجی ممالک سے مجموعی طور پر 33 کروڑ 60لاکھ ڈالر وطن آئے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے جولائی میں 32 کروڑ ڈالر بھیجے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود ترسیلات زر متاثر نہیں ہوئی۔ دنیا اور خاص کر خلیجی ممالک سے پاکستانی سرمایہ اپنا منتقل کر رہے ہیں۔ آج ترسیلات زر کا حجم مجموعی قومی پیداوار کا لگ بھگ دس فیصد ہے۔ یہ صورتحال معیشت کیلئے نہ صرف ایک مضبوط سہارا ہے۔ ترسیلات زر پر ملکی معیشت کا انحصار مزید بڑھ جاتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں اس شعبے نے جس طرح اپنی نمو سے اپنی حیثیت منوائی ہے، یہ دیگر شعبہ جات کیلئے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ اب حکومت کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ ہنرمند اور نوجوان افرادی قوت کو بیرون ملک کام کے مواقع حاصل کرنے کے قابل بنانے میں حکومتی کردار خاصا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ترسیلات زر میں اضافے کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں اور روپے پر دبائو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والی رقوم لاکھوں خاندانوں کی روزمرہ ضروریات’ بچوں کی تعلیم’ صحت اور رہائش پر خرچ ہوتی ہیں۔ حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرے۔ بینکنگ نظام کو آسان بنائے اور غیر قانونی ذرائع سے رقوم کی منتقلی کی حوصلہ شکنی کرے۔ اگر تارکین وطن کو اعتماد’ سہولت اور بہتر مالی خدمات فراہم کی جائیں تو ترسیلات زر میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہیں، تاہم مستقل معاشی استحکام صرف بیرون ملک سے آنے والی رقوم پر انحصار سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، حکومت کو چاہیے کہ ترسیلات زر کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافہ’ صنعتی ترقی’ سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دے۔ بیرون ملک پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ اس لئے ان کے اعتماد کو مضبوط بنانا اور انہیں وطن میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ترسیلات زر میں اضافہ اگر مؤثر معاشی پالیسیوں کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پاکستان کو معاشی استحکام کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ حکومت اگر افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کے معاہدات کرے تو پاکستانی ہنرمندوں کیلئے دنیا میں باعزت روزگار کمانے کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ آج بھی باصلاحیت’ ہنرمند نوجوانوں کی طلب کم نہیں ہوئی اور پاکستان اس خلا کو بہ آسانی پورا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس کی دو تہائی سے زائد آبادی ملک کیلئے بیش بہا خزانہ ثابت ہو سکتی ہے اگر اس افرادی قوت کی مناسب تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا جائے اور انہیں بیرون ملک ملازمتیں حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔ اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کیا جانا چاہیے۔ ہمیں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت اور عالمی مارکیٹ کی طلب کے مطابق افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔




