اسلام آباد (بیوروچیف)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز)، زراعت اور دیگر ترجیحی شعبوں کے لئے مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کے لئے کوششوں میں تیزی لانے، موثر اقدامات اور قرضوں کی جلد فراہمی کی ضرورت ہے تاکہ کاروباری افراد، کسانوں اور مستحق طبقات کو عملی فوائد پہنچائے جا سکیں۔ وزارت خزانہ میں رسائی برائے مالیات سٹیئرنگ کمیٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اجلاس میں ایس ایم ایز، زراعت، برآمدات، ہاسنگ اور وزیراعظم کی اہم سکیموں بشمول اپنا گھر پروگرام، زرعی قرضہ اسکیم زرخیزے اور پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (پی اے وی ای)سکیم کے تحت مالی معاونت کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مالی وسائل تک آسان اور جامع رسائی معاشی شمولیت، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، روزگار کی فراہمی اور غربت میں کمی کے لئے اہم ہے۔ کمیٹی نے پہلے سے طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد اور مختلف شعبہ جاتی و تکنیکی ذیلی کمیٹیوں کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 23 اکتوبر 2026 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لئے واجب الادا فنانسنگ کا حجم 1,148 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جس میں چھوٹے کاروباروں کے لیے 538 ارب روپے شامل ہیں۔اجلاس میں سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا)کے استعداد کار بڑھانے کے لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں مالیاتی آگاہی، دستاویزات کی بہتری، اکانٹنگ معاونت اور ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی پر زور دیا گیا تاکہ کاروباری اداروں کو رسمی مالیاتی نظام سے قرض حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ سمیڈا کو مالیاتی اداروں اور ریگولیٹرز کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے مربوط معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ زراعت کے شعبے میں واجب الادا قرضوں کا حجم 1,329 ارب روپے ہو گیا ہے جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد تقریبا 35 لاکھ ہے۔وزیراعظم کی زرعی قرضہ سکیم زرخیزے: آسان زرعی قرضہ کے تحت 20,176 درخواستوں کی منظوری دی گئی، جن کی مالیت 8.674 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے کسانوں کو ضمانت کے بغیر تقریبا 2.34 ارب روپے کے 6,132 قرضے فراہم کئے جا چکے ہیں۔اجلاس میں لائیو سٹاک اور ڈیری کے شعبوں کے لئے مالی معاونت مضبوط بنانے اور زرعی ویلیو چین میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ہائوسنگ فنانسنگ کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس شعبے میں واجب الادا فنانسنگ 455 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جس سے 241,500 قرض لینے والے مستفید ہو رہے ہیں۔وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کی فنانسنگ پر مشتمل 86,896 درخواستوں کی منظوری دی گئی جبکہ تقریبا 91 ارب روپے مالیت کے 15,584 قرضے جاری کئے جا چکے ہیں۔کمیٹی نے قرضوں کی فراہمی میں تیزی لانے اور رہائشی مکانات کی دستیابی سے متعلق رکاوٹیں دور کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ اس ضمن میں تعمیراتی شعبے، ڈویلپرز اور زیر تعمیر رہائشی منصوبوں کے لئے مالی معاونت بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (پی اے وی ای)سکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ سستی الیکٹرک دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے فروغ کے لیے 3.06 ارب روپے کی فنانسنگ پر مشتمل 21,918 درخواستوں کی منظوری دی گئی ہے۔سکیم کے تحت 1.093 ارب روپے مالیت کے 5,506 قرضے جاری کئے گئے جبکہ صارفین کو 3,263 الیکٹرک گاڑیاں فراہم کی جا چکی ہیں۔کمیٹی نے قرضوں کی جانچ پڑتال اور فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن میں ایس ایم ایز کے لئے کریڈٹ اسکورنگ اور برآمد کنندگان کی فنانسنگ کے آزمائشی منصوبے شامل ہیں۔وزیر خزانہ نے محفوظ اور متعلقہ فریق کی رضامندی سے ڈیٹا کے تبادلے، معلومات کی رازداری کے مثر تحفظ اور ڈیٹا لنکیج سے متعلق مسائل کے بروقت حل کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ڈیجیٹل اور نقد بہا کی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی کو وسعت دی جا سکے۔ اجلاس میں فنانسنگ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے قانونی اور ضابطہ جاتی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں قرضوں کی وصولی کے طریقہ کار میں بہتری، قرضوں سے متعلق خطرات میں کمی اور مالیاتی سہولیات سے محروم طبقات کے لئے فنانسنگ آسان بنانا شامل تھا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے عمومی طور پر ہاسنگ فنانسنگ اور بالخصوص وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت ہونے والی پیشرفت کو سراہا تاہم انہوں نے متعلقہ مالیاتی اداروں اور عملدرآمد کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کی فنانسنگ میں نمایاں تیزی لائی جائے، عملدرآمد کو مثر بنایا جائے اور قرضوں کی فراہمی کا عمل تیز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مالی وسائل تک رسائی میں اضافے کے اقدامات سے کاروباری اداروں، کسانوں اور مالی معاونت کے مستحق طبقات کو حقیقی فوائد ملنے چاہئیں جس کے لئے خطرات کی مثر تقسیم اور طے شدہ اصلاحات پر بروقت عملدرآمد ضروری ہے۔اجلاس میں وفاقی سیکرٹری خزانہ، وفاقی سیکرٹری ہاسنگ و ورکس، وفاقی سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق، گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئرمین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی)، چیف ایگزیکٹو آفیسر کارانداز پاکستان، چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیڈا اور وزارت خزانہ، سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔




