تمام بینکوں کو زرعی قرضوں کے اجراء کا عمل تیز کرنیکی ہدایت

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن (SBP BSC) فیصل آباد نے مالی سال 2025-26 کی دوسری زرعی قرضہ جائزہ اجلاس (Agriculture Credit Review Meeting – ACRM) منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف منیجر محترمہ فوزیہ اسلم نے کی، جبکہ فیصل آباد، جھنگ، سرگودھا، خوشاب، چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ اضلاع کا احاطہ کرنے والے تمام شریک بینکوں کے زرعی ریجنل سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں زرعی قرضہ توسیعی منصوبہ (Agriculture Credit Expansion Plan – A-CEP) کے تحت جولائی 2025 تا مارچ 2026 کی نو ماہہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران خطے میں مجموعی طور پر 95.73 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کیے گئے، جو 124.47 ارب روپے کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں 76.91 فیصد کارکردگی کے مساوی ہے۔ ضلع فیصل آباد نے 98.1 فیصد کامیابی کے ساتھ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔اجلاس میں A-CEP کے تحت ضلع وار اور بینک وار کارکردگی پر تفصیلی پریزنٹیشن ڈپٹی چیف منیجر، ایس بی پی بی ایس سی فیصل آباد، احمد بلال عارف نے پیش کی۔ A-CEP کے تحت بینک اپنے زرعی قرضہ جات کے سالانہ اہداف خود مقرر کرتے ہیں اور انہیں اسٹیٹ بینک کو جمع کرواتے ہیں، جس کے ذریعے سابقہ اشاریہ جاتی (Indicative) ہدفی نظام کی جگہ ایک ایسا ماڈل متعارف کروایا گیا ہے جس میں بینک خود اپنے اہداف کے تعین اور ان کے حصول کے لیے جوابدہ ہوتے ہیں۔چیئرپرسن نے تمام بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں قرضوں کے اجرا کی رفتار مزید تیز کریں تاکہ باقی ماندہ 28.75 ارب روپے کے فرق کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے خاص طور پر ضلع جھنگ اور خوشاب کو ترجیحی اضلاع قرار دیتے ہوئے وہاں زرعی قرضوں کے فروغ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں، انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ نئے کسان صارفین (New-to-Bank Farmers) تک رسائی میں اضافہ کریں، کیونکہ اس شعبے میں موجودہ کارکردگی 57.35 فیصد رہی جو مقررہ ہدف سے کم ہے۔اجلاس کے اختتام پر ایس بی پی بی ایس سی فیصل آباد نے خطے میں زرعی مالیات کے فروغ اور مالی شمولیت (Financial Inclusion) کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں