تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا اس وقت ایک نازک، پیچیدہ اور خطرناک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان تنا بڑھتا جا رہا ہے، اور سفارتکاری کے بجائے عسکری زبان میں بات کی جا رہی ہے, حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے, امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر ممکنہ حملہ مخر کرنے کا فیصلہ ایک ایسا غیر معمولی اقدام ہے جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اگرچہ اس فیصلے کو وقتی ریلیف سمجھا جا رہا ہے، لیکن مبصرین کے مطابق اس کے پیچھے گہری سفارتی، عسکری اور سیاسی وجوہات کارفرما ہیں, عالمی سیاست میں ایسے فیصلے محض جذبات یا ذاتی ترجیحات کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے بڑی اسٹریٹیجک گیمز چھپی ہوتی ہیں، جن کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ چین اور روس کی جانب سے ایران کی حمایت میں سامنے آنے والی غیر معمولی سخت زبان ہے, اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں چین اور روس نے واضح طور پر ایران کے حق میں مقف اختیار کرتے ہوئے امریکا کے ممکنہ اقدام کو “اشتعال انگیز” اور “عالمی امن کے لیے خطرہ” قرار دیا, چین نے تو یہاں تک کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس کا جواب دے گا, یہ بیانات محض سفارتی رائے زنی نہیں بلکہ ایک نئے عالمی بلاک کی تشکیل کی طرف واضح اشارہ ہیں, ایک ایسا بلاک جو امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار دکھائی دیتا ہے۔یہ صورتحال بظاہر مشرق وسطی تک محدود ایک علاقائی کشیدگی دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے, ایران ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف عسکری اور نظریاتی طور پر مضبوط ہے بلکہ اسے چین، روس اور کچھ دیگر ممالک کی پشت پناہی بھی حاصل ہے, امریکا اگر براہِ راست ایران پر حملہ کرتا ہے تو اس کے جوابی ردعمل کے اثرات خلیج فارس سے نکل کر بحیرہ روم، بحیرہ عرب، اور وسطی ایشیا تک پھیل سکتے ہیں, ایران کے پاس ایسی طاقت ہے کہ وہ نہ صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے بلکہ تیل کی عالمی ترسیل کو بھی متاثر کر سکتا ہے اور اگر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو پوری دنیا کی معیشت لرز اٹھے گی، جس کے اثرات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں سے لے کر عالمی اسٹاک مارکیٹس تک ہر سطح پر محسوس ہوں گے۔ایسی صورت حال میں یہ خدشہ شدید ہو جاتا ہے کہ دنیا کسی بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے, اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے آغاز سے قبل بھی دنیا میں ایسے ہی حالات پیدا ہوئے تھے۔ 1914 میں جب پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی، اس سے پہلے یورپ عسکری اتحادوں میں بٹ چکا تھا، قوم پرستی زوروں پر تھی، اور سفارتی تعلقات بداعتمادی کا شکار تھے, ایک چھوٹا سا واقعہ آسٹریا کے ولی عہد کے قتل نے وہ چنگاری سلگائی جس نے پوری دنیا کو خاکستر کر دیا موجودہ دور میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک چھوٹی سی جھڑپ بھی چین یا روس کی مداخلت کے باعث عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔اسی طرح دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہٹلر کی جارحانہ پالیسیوں، عالمی اداروں کی کمزوری اور اقتصادی بدحالی نے دنیا کو ایک اور جنگ میں دھکیل دیا آج بھی اقوام متحدہ، جو کہ اقوامِ عالم کا سب سے بڑا امن کا ادارہ ہے، امریکا، روس اور چین جیسے طاقتور ممالک کی باہمی کشمکش کے سبب غیر مثر نظر آتا ہے, چین اور روس ویٹو پاور استعمال کر کے امریکا کی ہر کوشش کو ناکام بنا سکتے ہیں، اور امریکا یک طرفہ فیصلوں پر مجبور ہو جاتا ہے, یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سفارتکاری کی جگہ فوجی کارروائی لے لیتی ہے، اور وہی خطرناک راستہ کھلتا ہے جو تاریخ میں کئی بار تباہی کا سبب بن چکا ہے۔چین اور روس کی ایران کے ساتھ کھلی حمایت ایک ایسی عالمی سیاسی صف بندی کو ظاہر کرتی ہے جس کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں, یہ ایک بڑا جیو اسٹریٹیجک اتحاد بن سکتا ہے جو امریکی سامراجیت کے خلاف متحد ہو کر نئی عالمی طاقت کا تاثر دے سکتا ہے, روس پہلے ہی شام میں امریکی مفادات کو چیلنج کر چکا ہے اور چین بحیرہ جنوبی چین اور تائیوان کے معاملے میں امریکا سے مسلسل پنجہ آزمائی کر رہا ہے, اب ایران کے معاملے میں اگر تینوں ممالک یکجا ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف امریکا بلکہ اس کے نیٹو اتحادیوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ عالمی معیشت بھی اس کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی, کورونا وائرس کے بعد دنیا ابھی مکمل طور پر معاشی استحکام حاصل نہیں کر پائی ہے, ایسے میں اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے اور خطہ جنگ کی لپیٹ میں آتا ہے تو عالمی معیشت کو ایک اور دھچکا لگے گا, تیل کی قیمتوں میں اضافے، سپلائی چین کے تعطل، اور مہنگائی کی نئی لہر سے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ان تمام حالات کے پیشِ نظر یہ سوال اب مفروضہ نہیں رہا کہ کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ یہ ایک حقیقت بنتی جا رہی ہے، اور اگر عالمی قوتوں نے بروقت دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو ہم ایک بار پھر ویسی ہی تباہی کا سامنا کریں گے جیسی 20ویں صدی میں دو بار ہو چکی ہے۔




