جرمن کمپنیوں کی امریکا میں سرمایہ کاری میں نمایاں کمی

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمن کمپنیوں نے2026کی پہلی ششماہی کے دوران امر یکا میں سرمایہ کاری میں نمایاں کمی کردی، جس کے نتیجے میں براہ راست سرمایہ کاری تین سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ جرمن اکنامک انسٹی ٹیوٹ (IW)کے اعداد و شمار کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ جرمن کمپنیوں کی امریکا میں براہ راست سرمایہ کاری سالانہ بنیاد پر تقریبا دو تہائی کم ہوکر 4.3ارب یورو رہ گئی۔رپورٹ کے مطابق 2024کی اسی مدت کے مقابلے میں جرمن سرمایہ کاری میں تقریبا 80فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔جرمن اکنامک انسٹی ٹیوٹ کی محقق ثمینہ سلطان نیخبر رساں ادرے رائٹرز کو بتایا کہ یہ رجحان ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز سے جنوری 2025میں جاری کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد امریکا کے بیشتر تجارتی شراکت داروں کو درآمدی محصولات عائد کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں، جن کا مقصد واشنگٹن کے لیے سازگار تجارتی رعایتیں حاصل کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی محصولات سے بچنے کے لیے یورپی یونین نے گزشتہ سال امریکا کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ کیا تھا، جس میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی شامل تھا۔اعداد و شمار کے مطابق کورونا وبا سے قبل پانچ سال کے دوران جرمن کمپنیوں کی امریکا میں پہلی ششماہی کی اوسط سرمایہ کاری 15.8 ارب یورو رہی، جو 2026 کی سطح سے تقریبا چار گنا زیادہ ہے۔تاہم ثمینہ سلطان کے مطابق 2020 سے 2023 کے دوران سرمایہ کاری کے اعداد و شمار پر کورونا وبا کے غیر معمولی حالات بھی اثرانداز ہوئے، جبکہ بعض برسوں میں خالص سرمایہ کاری کا اخراج بھی ریکارڈ کیا گیا۔محققین نے 2025 کے دوران سرمایہ کاری کے اجزا کا بھی جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ براہ راست سرمایہ کاری کے قرضے اور دوبارہ لگائے گئے منافع غیر معمولی طور پر بلند رہے، جبکہ نئے ایکویٹی سرمائے اور سرمایہ کاری کے خاتمے کے توازن کی صورت میں ایکویٹی سرمایہ اوسط سے کم رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں