جڑانوالہ(نامہ نگار)جڑانوالہ میونسپل کمیٹی بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ چشم پوشی کے باعث اندرون شہر نقشہ جات کی منظوری کے بغیر کمرشل پلازوں و دوکانات کی تعمیرات جاری،مذکورہ ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ نااہلی و غفلت کے باعث کمر شل نقشہ جات کی بغیر منظوری اور فیسیں جمع نہ کروانے کی مد میں بلڈنگ برانچ کو ریونیو کی مد میں مبینہ طور پر سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے،عوامی سماجی حلقوں کا وزیر اعلی پنجاب،کمشنر، ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سے مذکورہ سیٹ پر تعینات بلڈنگ انسپکٹر کو فی الفور معطل کرنے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق میونسپل کمیٹی بلڈنگ برانچ ڈیپارٹمنٹ انسپکٹر کی مبینہ چشم پوشی و نااہلی کے باعث اندرون شہر میں رہائشی مکانات کو کمرشل پلازوں و دوکانات میں تبدیل کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق مذکورہ رہائشی مکانات کو پہلے کمرشل بنانے کیلئے فیس ادا کرنا پڑتی ہے بعدازاں مذکورہ جگہ پر کمرشل پلازوں دوکانات بنانے کیلئے فی مرلہ کے حساب سے بلڈنگ نقشہ جات کی مد میں الگ فیسیں ادا کرنا پڑتی ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گورنمنٹ آف پنجاب و ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کمرشل پلازوں و دوکانات کی تعمیرات کیلئے فی مرلہ فیس تقریبا 3 لاکھ طے کی گئی ہے مگر جڑانوالہ اندرون شہر میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اندرون شہر میں رہائشی مکانات کو گرا کر دھڑلے سے کمرشل پلازوں و دوکانات میں تبدیل کیا جا رہا ہے مگر یہ سب بلڈنگ برانچ انسپکٹر کی نظروں سے ناگزیر وجوہات کی بنا پر مبینہ طور پر اوجھل ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رہائشی مکانات کو کمرشل پلازہ جات اور دوکانات میں بدلنے والے افراد کو مبینہ طور پر بلڈنگ برانچ کی آشیر باد حاصل ہے جسکے باعث کمرشل نقشہ جات کی منظوری نہ لینے اور کمرشل فیسیں جمع نہ کروانے کی مد میں بلڈنگ برانچ میونسپل کمیٹی کو ریونیو کی مد میں مبینہ طور پر سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلڈنگ برانچ انسپکٹر کی مبینہ چشم پوشی کے باعث اندرون شہر رہائشی مکانات کو کمرشل پلازوں و دوکانات بنانے کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف،کمشنر،ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ اعلی سطحی انکوائری ٹیم تشکیل دے کر کمرشل نقشہ جات کی مبینہ منظوری کے بغیر تعمیر ہونیوالے کمرشل پلازوں و دوکانات کا خفیہ سروے کروا کر از سر نو جائزہ لیا جائے اور مذکورہ مالکان سے نقشہ جات کی مد میں فیس وصولیاں یقینی بنائی جائے جبکہ مبینہ غفلت و لاپرواہی کے مرتکب بلڈنگ برانچ انسپکٹر کو فی الفور معطل کیا جائے۔




