مکوآنہ (نامہ نگار)مریم نواز شریف ہسپتال 229 رب کی حفاظتی دیوار گزشتہ کئی ماہ سے گری ہوئی ہے، جسکے باعث ہسپتال کی حدود غیر محفوظ ہو چکی ہیں اور مریضوں، اہل علاقہ اور راہگیروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی شہریوں کے مطابق حفاظتی دیوار نہ ہونے کی وجہ سے آوارہ جانور، جن میں گائیں، بھینسیں، بکریاں اور دیگر مویشی شامل ہیں، ہسپتال کے احاطے میں آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں اور وہاں لگائے گئے قیمتی درختوں، پودوں اور سبزے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی خوبصورتی اور سرکاری املاک کو محفوظ رکھنے کے لیے لگائے گئے پودے جانوروں کی نذر ہو رہے ہیں، لیکن متعلقہ حکام اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہے۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ بارش کے موسم میں حفاظتی دیوار گری ہونے کی وجہ سے ہسپتال کے اطراف پانی اور کیچڑ جمع ہو جاتا ہے، جس سے مریضوں، خواتین، بزرگ شہریوں اور راہگیروں کو گزرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی افراد پھسلنے سے زخمی بھی ہو چکے ہیں، جبکہ ہسپتال آنیوالے مریضوں اور ان کے لواحقین کو بھی آمدورفت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ شہریوں نے مزید بتایا کہ اس مسئلے کی نشاندہی کئی مرتبہ متعلقہ حکام کے سامنے کی جا چکی ہے، مگر تاحال حفاظتی دیوار کی تعمیر کے لیے کوئی موثر اقدام نہیں کیا گیا۔، جس کے باعث عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔اہل علاقہ نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف، سیکرٹری صحت پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مریم نواز شریف ہسپتال 229 رب کی گری ہوئی حفاظتی دیوار کی فوری تعمیر کے احکامات جاری کیے جائیں۔
، تاکہ ہسپتال کی حدود کو محفوظ بنایا جا سکے، سرکاری املاک کو نقصان سے بچایا جا سکے اور مریضوں و راہگیروں کو درپیش مشکلات کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکے۔




