اسلام آباد /کوئٹہ(بیورو چیف ) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے سینیٹ میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026ـ27 کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا ہے جب ملک کو اندرونی اور بیرونی معاشی دباؤ، مہنگائی، قرضوں کے بوجھ اور مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے تاہم مشکل معاشی حالات کے باوجود کئی اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے جو ملکی معیشت کے درست سمت میں گامزن ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب جو چند سال قبل تقریباً 8 فیصد تھا، بڑھ کر 10.2 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ پیش رفت ریاستی محصولات میں اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط کے فروغ کی عکاس ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ایف بی آر نے تقریباً 14 ارب ڈالر کے مساوی اضافی محصولات جمع کیے، جو ٹیکس نظام میں بہتری اور حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح شرح سود میں نمایاں کمی بھی بجٹ کی اہم کامیابیوں میں شمار کی جانی چاہئے۔ حکومتی اقدامات کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں، صنعتی پیداوار اور سرمایہ کاری کے فروغ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ کم شرح سود سے نجی شعبے کو قرضوں تک آسان رسائی حاصل ہوگی جس سے روزگار کے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہونے اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔




