حکومتی سست روی،ترقیاتی بجٹ صرف54فیصد خرچ

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت رواں مالی سال کے پہلے11ماہ کے دوران مجموعی طور پر10کھرب 96ارب روپے کی نظرِ ثانی شدہ ترقیاتی رقم میں سے صرف5کھرب93 ارب روپے یعنی 54فیصد فنڈز خرچ کرسکی ہے۔ آئندہ بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 10کھرب روپے مختص کیے جارہے ہیں جبکہ سالانہ منصوبہ جاتی رابطہ کمیٹی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام پرغورکرے گی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے 11ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران مجموعی طور پر ایک کھرب 96ارب روپے کی نظرِ ثانی شدہ ترقیاتی رقم میں سے صرف 5کھرب93ارب روپے یعنی 54فیصد فنڈز خرچ کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، متنازع ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام، جو صرف حکومتی بینچوں کے اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے مختص تھا، نے نظرِ ثانی شدہ 48ارب روپے میں سے 71فیصد یعنی 35ارب روپے خرچ کر دیے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی رفتار کافی سست رہی اور رواں مالی سال ختم ہونے میں صرف ایک ماہ باقی ہے، اس لیے یہ دیکھنا باقی ہے کہ 30جون 2025کو ختم ہونے والے مالی سال تک کتنا فنڈ خرچ ہو پاتا ہے۔حکومت اب آئندہ مالی سال2025-26کے بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 10کھرب روپے مختص کرنے جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں