لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے جنگلات ایکٹ 1927میں اہم ترامیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا مقصد قومی ترقیاتی منصوبوں اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل پروجیکٹس کے لیے جنگلاتی زمین کے استعمال کو ممکن بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترمیمی سفارشات صوبائی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہیں اور منظوری کے بعد یہ مسو دہ پنجاب اسمبلی سے منظوری کے لیے پیش کیا جائیگا ۔ ترمیمی بل کے تحت محفوظ اور ریزرو جنگلاتی علا قو ں کو قومی اہمیت کے اسٹریٹجک منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی اجازت دی جائیگی تاہم اس عمل کو مخصوص قانونی شرائط سے مشروط کیا جائیگا تاکہ ماحولیاتی توازن اور جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ نئی ترامیم کے بعد حکومت کو جنگلاتی زمین کو مخصوص قومی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہو جائے گا، جو پہلے موجود نہیں تھا۔اس حوالے سے2016 کی ایک ترمیم کے تحت سیکشن 27میں نئی ذیلی شقیں بھی شامل کی گئی تھیں۔ اس سے قبل بھی1962 اور 2010میں جنگلات ایکٹ میں اہم ترامیم کی جا چکی ہیں۔حکومتی ترجمان کے مطابق اس ترمیمی مسودے کا مقصد جنگلات کے تحفظ اور قومی ترقی کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیساتھ ساتھ انفراسٹر کچر کی ترقی میں بھی پیش رفت ہو سکے۔




