اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت اگلے 3 سال میں 10 لاکھ افراد کو مصنوعی ذہانت (اے آئی)سکھانے کیلئے تیار ہے، وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو پاکستانی نقطہ نظر سے تربیت دینا ضروری ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی سے آنے والا انقلاب تمام شعبوں میں تبدیلیاں لا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اگلے 3 سال میں 10 لاکھ افراد کی تربیت کا اعلان کیا، ہم اگلے 3 سال میں 10 لاکھ افراد کو مصنوعی ذہانت سکھائیں گے۔ تقریب سے خطاب کے دوران شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت نے پہلی بار اے آئی پالیسی منظور کی، اے آئی کو پاکستانی نقطہ نظر سے ٹریننگ دینا ہوگی، پاکستان میں انٹرنیٹ کے مسائل اسپیکٹرم نہ ہونے کے باعث پیدا ہوئے، فائیو جی کی آمد سے انٹرنیٹ کی رفتار کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ خطاب کے دوران شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گوگل کو پاکستان لانے کیلئے مذاکرات جاری ہیں، گوگل کروم بکس اب پاکستان میں تیار ہورہی ہیں،اب بچوں کیلئے تمام تربیت مفت ہوگی۔ انٹرنیٹ کی بہتری کیلئے سب میرین کیبلز بچھائی جارہی ہیں، 480 میگا ہرٹز کا اسپیکٹرم نیلام کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ وفاقی حکومت ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار تیز کرنے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ 270 میگا ہرٹز سے براہِ راست 750 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کو دستیاب کردیا گیا۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں 5 جی سروس شروع کی گئی ہے۔




