پنجاب فوڈ اتھارٹی کی غفلت ،قصابوں کے اپنے سلاٹر ہاؤس

ساہیوال (بیوروچیف) ساہیوال میں تقریباً زیادہ تر مادہ جانوروں کا گوشت فروخت ہو رہا ہے دیہاتوں سے بیمار بھیڑ بکریاں اور جھوٹیاں پہلے سے ذبع شدہ اور بیمار مادہ جانور خود ذبع کرتے ہیں اور زیادہ تر قصائیوں نے اپنے اپنے گھروں احاطوں میں سلاٹر ہاؤس بناے ہوئے ہیں جن سے ماہانہ اور ہفتہ وار منتھلیاں لی جا رہی ہیں مادہ جانوروں میں بڑے گوشت کا ذخیرہ ہو رہا جس میں بیمار اور پہلے سے ذبع شدہ گائے بھینسیں اور جھوٹیاں ہیں چند ایک کو تو موسمی سانپ نے ڈسا ہوتا ہے یا پھر گل گھوٹو سے مرتی ہیں دیہاتوں سے انہیں اٹھا کر مختلف مقاما ت پر گھروں میں برف کے بلاکوں میں سٹاک کیا جاتا ہے جو جمعرات کو ہوٹلوں ریسٹورانوں اور قصائیوں کے پھٹوں پر سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے کیا لائیو سٹاک افسران اور عملہ واقف نہیں ہے کیا پنجا ب فوڈ اتھارٹی کے علم میں نہیں ہے تمام کے تمام بھتہ لینے والوں کے نام منظر عام پر لائے جائیں گے اور انکے خلاف سخت کارروائی عمل میں لای جاے گی رپورٹ کرنیوالے اداروں کے نمائندوں کے نام سب سامنے آنیوالے ہیں کچھ کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے اور کچھ باقی ہیں جو اپنا سلسلہ وار منتھلیاں اور ہفتہ وار پیسہ وصولی کر رہے ہیں لائیو سٹاک ملاز مین اور مردہ بیماری گوشت فروخت کرنے والوں کی میٹنگ اور اکٹھ جوڑ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھی گئی ہے جن مقامات پر ڈیل ہوتی ہے وہ بھی منظر عام پر ہے سیکرٹری لائیو سٹاک اور ڈی جی فوڈ اتھارٹی کو تمام تر ثبوت اور ریکارڈنگ سنائی اور دیکھائی گئی ہیں۔درمیانی ڈیل کرنے والے عناصر بھی ملوث ہیں جن کے خلاف عنقریب کارروائیاں عمل میں لای جائیں گی۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں