درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث معمولات زندگی متاثر

کمالیہ(نامہ نگار) شدید گرمی کی لہر بدستور جاری ہے ۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور حبس کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں جبکہ سرکاری و نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں موسمی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔شدید گرمی کے باعث شہریوں، خصوصا بچوں، بزرگوں اور محنت کش طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ دوپہر کے اوقات میں بازاروں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر رش معمول سے کم نظر آ رہا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور کھیتوں میں کام کرنے والے کسان شدید دھوپ میں کام کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث ان میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کی شکایات بڑھ رہی ہیں۔مقامی ہسپتالوں اور نجی کلینکس میں بخار، ہیٹ اسٹروک، معدے کی خرابی، قے ، اسہال، جلدی الرجی اور پانی کی کمی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی کی کمی مختلف پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے ، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری طور پر دوپہر کے وقت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کیا جائے ، زیادہ سے زیادہ پانی اور مشروبات استعمال کیے جائیں، ہلکی اور ڈھیلی سوتی پوشاک پہنی جائے اور بچوں و بزرگوں کا خصوصی خیال رکھا جائے ۔ انہوں نے شہریوں کو کھانے پینے کی اشیا صاف ستھری جگہوں سے خریدنے اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرنے کی بھی تلقین کی۔شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ، عوامی مقامات پر ٹھنڈے پانی کے انتظامات کیے جائیں اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ شدید گرمی کے اثرات سے عوام کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں