آستانہ(مانیٹرنگ ڈیسک)روسی صدر ولادے میر پیوٹن نے کہا ہے کہ دورہ قازقستان کے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کر لئے ،دونوں ممالک کے درمیان تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے، یوکرائن سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں دو روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم پہلی مرتبہ 20ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ،اس میں مزید اضافے کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ روس قازقستان میں صرف سرمایہ کاری نہیں کر رہا بلکہ وہاں مکمل جوہری توانائی کی صنعت کی بنیاد رکھ رہا ہے، جس کے تحت مقامی ماہرین کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔روسی صدر نے بتایا کہ روس قازقستان کے جوہری توانائی منصوبوں کیلئے ایندھن فراہم کرنے اور استعمال شدہ ایندھن کو واپس لینے کے لیے بھی تیار ہے۔یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر پوتن نے کہا کہ میدانِ جنگ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تنازع اپنے اختتامی مرحلے کے قریب دکھائی دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ روسی افواج مختلف محاذوں پر پیش قدمی کر رہی ہیں اور زمینی حقائق اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ روسی صدر نے واضح کیا کہ روس نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا اور آج بھی بات چیت کیلئے تیار ہے۔ رومانیہ میں گرنے والے ڈرون کے واقعے پر روسی صدر نے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ یوکرینی ڈرون ہو سکتا ہے جو الیکٹرانک جنگی نظام یا دیگر وجوہات کی بنا پر راستہ بھٹک گیا ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ڈرون کا ملبہ روس کے حوالے کیا جائے تو ماسکو غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے تیار ہے۔یورپ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں صدر پوتن نے یورپی یونین کی جانب سے روسی خطرے کے دعوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کے خلاف خوف پھیلا کر یورپی حکومتیں اپنے عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔آرمینیا کے حوالے سے روسی صدر نے خبردار کیا کہ اگر آرمینیا یوریشین اقتصادی یونین چھوڑ کر یورپی یونین کے معیار اپنانے کا فیصلہ کرتا ہے تو دونوں فریقوں کے درمیان موجودہ اقتصادی انضمام متاثر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یوریشین اقتصادی یونین آرمینیا کو ایک وسیع اور محفوظ منڈی تک رسائی فراہم کرتی ہے جبکہ یونین سے علیحدگی کی صورت میں آرمینیا کو معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روس دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو خودمختار مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم تیار کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کی ترقی کے لیے وسیع توانائی وسائل درکار ہوتے ہیں اور روس کو اس میدان میں واضح برتری حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ روس میں بغیر ڈرائیور گاڑیوں، ڈیجیٹل خدمات اور طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جو مستقبل کی معیشت اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔




