ریگولیٹری اداروں اور کاروباری برادری کے درمیان فاصلے کم کرنا ناگزیر ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)ریگولیٹری ادارو ں اور کاروباری برادری کے درمیان فاصلے کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور SECP کا موجود ہ وژن کاروبار دوست اصلاحات، آسان کمپلائنس اور ڈیجیٹل سہولتوں کے فروغ پر مرکوز ہے۔یہ بات سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے کمشنر مظفر احمد مرزانے فیصل آباد چیمبر آف کامر س اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹر کا کردار صرف نگرانی نہیں بلکہ کاروبار کی سہولت کاری اور ترقی کو یقینی بنانا بھی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ SECP کی موجودہ پالیسی BeneficialRegulation کے تصور پر مبنی ہے جس کا مقصد کاروباری اداروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا اور غیر ضروری پیچیدگیوں کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی رجسٹریشن کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور خودکار بنایا جا رہا ہے تاکہ کاروباری افراد گھر یا دفتر سے ہی تمام امور انجام دے سکیں۔کمشنر SECP نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں صنعتکار اور تاجر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہی طبقہ روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے کمپلائنس کے تقاضوں کو مزید آسان اور قابلِ عمل بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کمپنی ڈھانچے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ Limited Liability کا نظام کاروباری افراد کو ذاتی اثاثوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جبکہ کمپنی کا باقاعدہ اسٹرکچر سرمایہ کاری، اعتماد اور مالی شفافیت کو فروغ دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان CDCکے ذریعے شیئر ہولڈنگ اور ملکیت کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور محفوظ بنارہا ہے تاکہ جعل سازی اور تنازعات کا خاتمہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ادارہ کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ اور بزنس ریوائیول کے قوانین پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ مالی مشکلات کا شکار کمپنیوں کو بند ہونے کے بجائے بحالی کا موقع دیا جا سکے۔ انہوں نے انشورنس، کیپٹل مارکیٹ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں موجود وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے پر بھی زور دیا۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ SECP کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا اور چیمبرز آف کامرس کے ساتھ مشترکہ سیمینارز اور ورکشاپس کے ذریعے آگاہی کو فروغ دیا جائے گا۔اِس سے قبل فیصل آبا د چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر اور فیصل آباد چیمبر ملک کا تیسرا بڑا چیمبر آف کامرس ہے۔ تاہم ہمیں فخر ہے کہ ریونیو جنریشن میں فیصل آباد ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ فیصل آباد کو بجا طور پر پاکستان کا ٹیکسٹائل ہب کہا جاتا ہے لیکن آج یہ صرف ٹیکسٹائل تک محدود نہیں رہا۔ یہاں آٹوموبائل، فارماسوٹیکل، ڈیری، کنفکشنری اور دیگر متعدد صنعتیں ترقی کر رہی ہیں اور ملکی برآمدات میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔فیصل آباد میں پاکستان کی سب سے بڑی صنعتی اسٹیٹ موجود ہے جہاں متعدد بین الاقوامی اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی پیداوار کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیصل آباد کی معاشی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔فیصل آباد چیمبر نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ہم خود کو معیشت کا حقیقی اسٹیک ہولڈر سمجھتے ہیں۔ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں فیصل آباد کا حصہ 57 فیصد سے زائد ہے جو اس شہر کی معاشی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر کا بنیادی کردار حکومت، سرکاری اداروں اور کاروباری برادری کے درمیان ایک مؤثر پل کا ہے۔ حال ہی میں وفاقی بجٹ سے قبل ہم نے تمام ٹریڈ ایسوسی ایشنز اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک جامع دستاویز حکومت کو پیش کی۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہماری بعض تجاویز بجٹ کا حصہ بنیں تاہم کئی اہم سفارشات ابھی بھی زیرِ غور ہیں۔ ہم نے دوبارہ حکومت کو تجاویز ارسال کی ہیں تاکہ بجٹ کی منظوری سے قبل ان پر توجہ دی جا سکے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی معاشی بقا کا واحد راستہ برآمدات میں اضافہ ہے۔ صرف کرنٹ اکاؤنٹ کو بہتر بنانا کافی نہیںبلکہ تجارتی خسارے میں کمی لانا بھی ناگزیر ہے۔ ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا اور بیرونی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ جب بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں صرف ہو جائے تو ترقیاتی منصوبوں اور برآمدی صنعتوں کے لیے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہEase of doing business کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ صرف ایک ادارے کے اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ اگر ہم 100 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہر متعلقہ ادارے کو روایتی طرزِ عمل سے ہٹ کر کاروبار دوست پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔ حالیہ سیلابوں کے دوران ہمارے ممبران نے امدادی سرگرمیوں، راشن کی تقسیم اور متاثرین کی بحالی میں بھرپور حصہ لیا۔ اسی طرح فیصل آباد کے مختلف ہسپتالوں اور فلاحی اداروں میں ہمارے ممبران کی خدمات نمایاں ہیں۔ہم ہمیشہ ملکی سلامتی، قومی ترقی اور ریاستی اداروں کے استحکام کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں انفراسٹرکچر کے شعبے میں پیش رفت ہوئی ہے اور ہم اس پر وزیراعلیٰ پنجاب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ SECP کا کردار شفافیت، گورننس اور سرمایہ کاری کے فروغ میں نہایت اہم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کی قیادت میں SECP مزید مؤثر انداز میں کاروباری برادری کی رہنمائی کرے گا۔ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے کمپلائنس کے تقاضوں کو آسان، کم لاگت اور قابلِ عمل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں سابق سینئر نائب صدر چوہدری طلعت محمود،ایگزیکٹو ممبر شاہد مجید ، شاہد احمد شیخ ، محترمہ فاقہازبیر اور تیمور شوکت نے حصہ لیا۔ نائب صدر انجینئرعاصم منیر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں صدر فاروق یوسف شیخ نے کمشنر سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان مظفر احمد مرزا کو چیمبر کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔کمشنر SECPنے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے اورگروپ فوٹو بھی بنوایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں