وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیرصدارت ملک میں غذائی تحفظ اور کھاد کے ذخائر کی صورتحال پر اجلاس ہوا جس کے دوران کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایشیائی ممالک سے کھاد کی متبادل فراہمی کی منصوبہ بندی کی جائے، کھاد کی مقامی پیداوار بڑھانے کیلئے نئے پلانٹ لگانے کے منصوبوں پر کام تیز کیا جائے، غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے زرعی شعبے کی ضروریات کو پورا کرنا بیحد ضروری ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر مکمل عملدرآمد کیلئے بھرپور اقدامات اٹھانا ضروری ہے، کھاد کی مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کرنا بھی ناگزیر ہے، یہ بات خوش آئند ہے کہ کھاد کی مقامی پیداوار بڑھانے پر حکومتی توجہ مرکوز ہے، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ زرعی ترقی موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ یہ غذائی تحفظ’ معاشی استحکام اور ملکی خوشحالی کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، جدید زرعی ٹیکنالوجی’ معیاری بیج اور بہتر آبپاشی کے نظام کو اپنا کر فصلوں کی بیماریوں’ موسمی اثرات اور خوراک کی کمی جیسے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے، زرعی ترقی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے جانیوالے حکومتی اقدامات قابل تحسین ہیں، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے غذائی تحفظ اور کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی کے لیے جو اقدامات اٹھائے ہیں، ان سے کسانوں کو درپیش مسائل ومشکلات کے حل میں بڑی مدد ملے گی، یقینی طور پر زرعی ترقی کیلئے زمینداروں’ کاشتکاروں اور کسانوں کے مسائل کا حل اور بہترین سہولتوں کی فراہمی ضروری ہے، زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہے اور زرعی پیداوار میں اضافے کیلئے جدید زرعی آلات کا استعمال بھی ناگزیر ہے، بہتر زرعی ترقی کیلئے نظام آبپاشی میں مثبت تبدیلیاں اور جدت لائی جائے، چھوٹے کسانوں کو جدید سہولیات اور نئی ٹیکنالوجی تک رسائی میں مدد فراہم کی جائے، اس سے ملکی زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا، یہ بات خوش آئند ہے کہ زرعی شعبے کی بحالی اور ترقی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ یہی تیز ترین معاشی استحکام کا ذریعہ بھی ہے، اس حقیقت سے ہر ذی شعور آگاہ ہے کہ تعلیم اور سائنسی ترقی کے میدانوں میں انسان کی ناقابل یقین حد تک کامیابیوں نے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، نت نئی ایجادات کا انبار لگ چکا ہے اور اب تو مصنوعی ذہانت کے کمالات اور کرشموں نے انسان کی سائنسی ترقی کو چار چاند لگا دیئے ہیں مگر دوسری جانب دنیا بھر میں صاف پانی اور خوراک کی کمی جیسے مسائل سر اٹھا رہے ہیں، سائنسی ترقی کو زرعی ترقی اور صاف پانی کے حصول کیلئے بروئے کا رلانا چاہیے، وطن عزیز پاکستان زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی خوراک کی کمی کا شکار ہے اور حکومت کو اس کی وجوہات کا سراغ لگا کر ان کا تدارک کرنا چاہیے’ یہاں پر ہر طرح کا موسم اور آب وہوا موجود ہے’ زرخیز زمین ہے، ہر طرح کی فصلیں یہاں اگتی ہیں اور زراعت کو ہماری ملکی معیشت میں ایک خاص مقام اور درجہ حاصل ہے، اس لئے زرعی ترقی پر مکمل توجہ دینا بیحد ضروری ہے اور امید ہے کہ اس سلسلے میں تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں گے۔




