لاہور( بیوروچیف)وفاقی وزیربرائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ برآمدات بڑھا کر ہی ہم آئی ایم ایف سے جان چھڑا سکتے ہیں،امریکہ میں موجود وزیر خزانہ پاکستان کے ریزرو کو بڑھانے کے لئے دس ارب ڈالر لانے کیلئے کام کر رہے ہیں ،برآمدات بڑھائے بغیر بغیر ہم مستحکم معاشی ماڈل کی طرف نہیں جا سکتے ،اوورسیز پاکستانیوں نے 41 سے42ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر بھجوائی ہیںمگر ہم ملک کو صرف اس کے ذریعے آگے نہیں بڑھا سکتے بلکہ ہمیں برآمدات کو بڑھانا ہوگا ،زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو معاشی قوت بنانے کے سفرپر گامزن ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپوسنٹر لاہور میں منعقدہ ایکسپوفیصل آباد 2026ء کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ اللہ تعالی نے اس ملک خداد اد کو تمام وسائل سے مالامال کیا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو مثبت طریقے سے بروئے کا ر لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے ، زرعی ترقی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے،ہمیں پیداوار میں اضافے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنانا ہو گاتاکہ ملک میں خوشحالی لائی جا سکے،حکومت زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پر عزم اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا اس طرح کی ایکسپو کا انعقاد خوش آئندہے جس سے برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی معیشت مضبوط اور پائیدار بنانے میں برآمدات کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سالانہ تقریباً 41سے 42 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کر رہے ہیں جو معیشت کے لیے اہم سہارا ہیں، تاہم صرف ترسیلاتِ زر پر انحصار پائیدار معاشی ماڈل نہیں ، ملکی برآمدات میں اضافے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کے بغیر پاکستان پائیدار معاشی ترقی اور استحکام کی منزل حاصل نہیں کر سکتا ہے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے فوکس کیا ہوا ہے کس طرح ہم اپنی برآمدات بڑھا سکتے ہیں جس کے لیے وہ بزنس کمیونٹی کی مشکلات کو کم کررہے ہیں۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے لیے مختلف پروگرام شروع کیے گئے ہیں جن سے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ہمارا بزنس ہب ہے،ہم ایکسپورٹ میں ہمیشہ فیصل آباد کی جانب دیکھتے ہیں،17ارب ڈالر صرف ٹیکسٹائل سے آ تے ہیں۔




