زرعی طلبہ سائنسی تحقیق کو کسانوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے محکمہ زراعت توسیع پنجاب کے اشتراک سے گندم کی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صوبے کے چھ ڈویژنز میں 10 روزہ گندم آگاہی مہم شروع کر دی ہے، جس کے تحت یو اے ایف کے 32 ہزار طلبہ کسانوں کے کھیتوں میں جا کر جدید زرعی طریقوں، بروقت کاشت، تصدیق شدہ بیج اور کھادوں کے متوازن استعمال سے متعلق رہنمائی فراہم کریں گے۔ یہ مہم 30 اکتوبر سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔اقبال آڈیٹوریم میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری زراعت پنجاب اسامہ لغاری نے کہا کہ زرعی طلبہ جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق کو کسانوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت کسانوں کو کسان کارڈ، سپر سیڈرز سمیت جدید زرعی مشینری اور 4,500 روپے فی من امدادی قیمت کے ذریعے سہولت فراہم کر رہی ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے پیش نظر کسان کارڈ کے تحت فی ایکڑ قرض کی حد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینک آف پنجاب کے ذریعے کسانوں کو 350 ارب روپے سے زائد کے زرعی مائیکروفنانس قرضے فراہم کیے گئے ہیں، جن کی واپسی کی شرح 99 فیصد ہے۔ حکومت نے رواں سال کو زرعی میکانائزیشن اور ویلیو ایڈیشن کا سال قرار دیا ہے اور زراعت میں جدت، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔سیکرٹری زراعت پنجاب شکیل احمدمیاں نے کہا کہ گندم کی بہتر پیداوار کے لیے بروقت کاشت، تصدیق شدہ بیج کا استعمال اور ڈرل کے ذریعے قطاروں میں کاشت مہم کی بنیادی ترجیحات ہیں۔ پنجاب میں صرف تقریباً 11 فیصد گندم کے رقبے پر قطاروں میں کاشت کی جاتی ہے، جس کا زیادہ تر حصہ بارانی علاقے پوٹھوہار میں ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں اب بھی چھٹہ طریقہ رائج ہے۔ انہوں نے طلبہ اور محکمہ زراعت کی توسیعی ٹیموں پر زور دیا کہ وہ کسانوں کو جدید طریقہ کاشت، کھادوں کے متوازن استعمال اور بہتر پیداواری انتظام کے بارے میں آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ 4,500 روپے فی من امدادی قیمت کسانوں کو گندم کا زیادہ رقبہ کاشت کرنے کی ترغیب دے گی، جبکہ اضافی پیداوار کی صورت میں ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع شہباز اختر نے کہا کہ اس مہم کے تحت تقریباً 400 عمومی اجتماعات، 200 بڑے کسان اجتماعات، 500 دیہی رابطہ نشستوں، میڈیا بریفنگز اور دیگر آگاہی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ کسانوں کو یکم سے 20 نومبر کے دوران گندم کی کاشت مکمل کرنے، تصدیق شدہ بیج اور جدید زرعی طریقے اپنانے کی ترغیب دی جائے گی۔وائس چانسلر یو اے ایف پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات اور ذیلی کیمپسز کے 3,200 سے زائد طلبہ ایک ہفتے کے لیے تدریسی سرگرمیاں معطل کرکے گندم مہم میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام یونیورسٹی کے 2010 میں شروع کیے گئے طلبہ کے فیلڈ انٹرن شپ پروگرام اور 2021 میں محکمہ زراعت پنجاب کے ساتھ شروع کی گئی مشترکہ سالانہ مہم کا تسلسل ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کو عملی زرعی مسائل سے روشناس کرانے اور سائنسی تحقیق کو کسانوں کے کھیتوں تک پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے طلبہ گوجرانوالہ، گجرات، لاہور، ساہیوال، سرگودھا اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے چھ ڈویژنز میں کسانوں سے براہ راست رابطہ کرکے انہیں رہنمائی فراہم کریں گے۔ اور کسانوں کے مسائل سے آکاہی حاصل کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں