ساہیوال ( بیورو چیف) ساہیوال,ہڑپہ شہر اور اس کے گردونواح میں غیر قانونی سگریٹ کی کھلے عام فروخت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث قومی خزانے کو ٹیکس کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی نااہلی، غفلت یا مبینہ چشم پوشی کے باعث غیر قانونی سگریٹ فروشوں کے حوصلے بلند ہو چکے ہیں ذرائع کے مطابق روزانہ لاکھوں روپے مالیت کے غیر قانونی اور نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ مختلف گاڑیوں کے ذریعے علاقے میں لائے جاتے ہیں، جنہیں بعد ازاں موٹر سائیکل سوار سیلز مین دیہاتوں، گلی محلوں میں قائم دکانوں، کھوکھوں اور جنرل سٹورز تک سپلائی کرتے ہیں۔ غیر قانونی سگریٹ کی یہ فروخت نہ صرف حکومتی محصولات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ قانونی کاروبار کرنے والے تاجروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات کے باوجود ذمہ دار اداروں کی جانب سے صرف نمائشی اور عارضی کارروائیاں کی جاتی ہیں، جس کے بعد صورتحال دوبارہ جوں کی توں ہو جاتی ہے۔عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر غیر قانونی سگریٹ کی ترسیل اور فروخت اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے تو متعلقہ ادارے اس کا نوٹس لینے میں کیوں ناکام ہیں۔شہریوں، سماجی حلقوں اور تاجروں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہڑپہ اور گردونواح میں غیر قانونی سگریٹ کے کاروبار کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور غفلت یا چشم پوشی کے مرتکب اہلکاروں کا بھی احتساب کیا جائے تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا سدباب ممکن ہو سکے۔




